مضامین بشیر (جلد 2) — Page 27
۲۷ مضامین بشیر اور میں صرف دور سے ہی اپنے تصور میں ان کی سابقہ محبت کے گلی کو چوں کا نظارہ کر سکتا ہوں اور بس۔اس لطیف اور بین تشریح کو چھوڑ کر نا پاک اور اوباش لوگوں کی طرح گندی خیال آرائی میں مبتلا ہونا آج کل کے بدنصیب مسلمانوں کا ہی حصہ ہے۔افسوس ! افسوس!! یہ وہ امت ہے جو اس زمانہ میں سید ولد آدم حضرت خاتم النبین فخر اولین و آخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہے۔فانالله وانا اليه راجعون میں نے یہ مضمون بخار کی حالت میں شروع کیا تھا اور اب بخار کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس لئے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔صرف ایک مختصر سی آخری گزارش پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے عقائد کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصانیف اور مطبوعات پر ہے جو شخص انہیں چھوڑ کر زبانی روایتوں کی بناء پر اعتراض اٹھاتا ہے وہ یقیناً بدنیت ہے۔زبانی روایتیں تو ہم نے ان کی کمزوری کا علم رکھنے کے باوجود (اور اس زمانہ میں تو لوگوں کے حافظہ کی کمزوری نے زبانی روایتوں کو اور بھی زیادہ کمزور کر دیا ہے ) بعض زائد ضمنی فوائد کی خاطر جمع کر کے شائع کی ہیں مگر وہ کسی جہت سے بھی ہمارے عقائد کی بنیاد نہیں ہیں۔قرآن شریف تو یہاں تک فرماتا ہے کہ خود اس کی اپنی متشابہ آیات کی بناء پر بھی اعتراض کرنا دیانتداری کا شیوہ نہیں۔(سورہ ال عمران ) چہ جائیکہ اصل اور مستند بنیادی لٹریچر کو چھوڑ کر زبانی روایتوں کو اعتراض کی بنیاد بنایا جائے۔ایسے لوگ یقیناً اس قرآنی وعید کے نیچے آتے ہیں کہ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ۔۔۔۔۔۱۲۰ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنُ ( مطبوعہ الفضل ۶ رمئی الفضل ۱۹۴۶ء )