مضامین بشیر (جلد 2) — Page 26
مضامین بشیر ۲۶ کے بالوں سے پونچھے اور اس کے پاؤں بہت چومے اور ان پر عطر ملا “۔۔۔سواگر حضرت مسیح ناصری کو ایک شہری نوجوان عورت ( کیونکہ بدچلن کا لفظ ظا ہر کرتا ہے کہ وہ کم از کم بوڑھی نہیں تھی۔گو یہ ظاہر ہے کہ وہ تو بہ کے خیال سے آئی تھی ) اپنے جسم سے چھو سکتی ہے اور آپ کے ننگے قدموں کو اپنے کھلے ہاتھوں سے خوشبو دار عطر یا تیل مل سکتی ہے اور آپ کے پاؤں کو چوم سکتی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک نیک بوڑھی دیہاتی عورت جو پردہ کی قیود سے آزاد تھی ، موٹی رضائی کے باہر سے کیوں نہیں دبا سکتی۔مگر حق یہی ہے کہ خدا کا یہ از لی قانون پورا ہونا تھا كه يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَ چوتھا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ سیرۃ المہدی جلد سوم کی روایت نمبر ۸۶۵ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف جو بات منسوب کی گئی ہے کہ آپ نے ایک دفعہ اس شعر کی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے تعریف فرمائی کہ یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے لکھا راس پر یہ تشریحی نوٹ درج ہے کہ شائد اس شعر کے متعلق حضور کی پسندیدگی اس وجہ سے بھی ہوگی کہ آپ اس کے معانی کو اپنے پیش آمدہ حالات پر بھی چسپاں فرماتے ہوں گے اس پر بعض بدفطرت معاندین نے نہائت گندے اور دل آزار رنگ میں یہ طعن کیا ہے کہ نعوذ باللہ اس نوٹ میں حضور کی جوانی کے ایام کی کسی داستان عشق کی طرف اشارہ ہے۔اس اعتراض کے جواب میں میں پھر اس قرآنی آیت کی طرف رجوع کرنے کے لئے مجبور ہوں۔کہ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ۔۔۔وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ۔ایسے اعتراضوں سے ہمارا تو خدا کے فضل سے کچھ نہیں بگڑ سکتا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاک دامن پر کسی شریف انسان کے نزدیک کوئی دھبہ آ سکتا ہے۔لیکن یقیناً اعتراض کرنے والے اپنی گندی فطرت کا اظہار کر کے خود اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج بورہے ہیں۔روایت کا تشریحی نوٹ بالکل سادہ الفاظ میں ہے اور ہر موٹی سے موٹی سمجھ رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ مسیحیت پر عوام المسلمین نے آپ کے ساتھ تمام تعلقات محبت قطع کر کے آپ کو گو یا اپنی سوسائٹی سے خارج کر دیا تھا۔اس لئے آپ اس شعر کے ذریعہ اس حسرت کا اظہار فرماتے ہیں کہ ایک وقت وہ تھا کہ میں ملک کی اسلامی سوسائٹی میں لوگوں کے اندر گو یا محبت سے گھومتا پھرتا تھا۔مگر اب یہ حالت ہے کہ مسلمان اپنی نادانی میں مجھ سے کٹ کر الگ ہو گئے ہیں۔