مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 375 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 375

۳۷۵ فن تعمیر کے ماہر صاحبان توجہ فرمائیں مرکز پاکستان کے لئے ضروری مشورہ مضامین بشیر اس وقت مرکز پاکستان کی آبادی کا سوال زیر غور ہے اور حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا منشاء ہے کہ یہ کام بلا توقف شروع ہو کر جلد سے جلد تکمیل کو پہنچ جائے۔اس نئی بستی میں جو ایک وادی غیر ذی زرع میں آباد ہورہی ہے مختلف قسم کے مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔یعنی پرائیویٹ مکانات بھی اور پبلک عمارتیں بھی۔اسی طرح جو مکانات بنیں گے ان میں بعض کچے ہوں گے اور بعض نیم کچے اور نیم پکے ہوں گے اور بعض پکے ہوں گے۔گو ہر صورت میں کوشش یہ کی جائے گی کہ کم سے کم خرچ ہو۔جس رقبہ میں یہ بستی جس کا نام حضرت صاحب نے ربوہ تجویز کیا ہے آباد ہوگی اس کی مٹی ریت کی آمیزش رکھتی ہے اور اس میں کسی قدر شور کا مادہ بھی ہے۔اس کے پہلو میں بہت چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں۔جن سے گورنمنٹ کی اجازت کے ساتھ پتھر اور کنکر لیا جا سکے گا۔دریا کا فاصلہ قریباً دو میل ہے۔جہاں سے اغلباً ریت مل سکے گی۔بارش اس علاقہ میں بہت کم ہوتی ہے۔لیکن بعض اوقات شاذ کے طور پر زور کی بارش بھی ہو جاتی ہے۔علاقہ نشیبی نہیں بلکہ اردگرد کی زمینوں سے اونچا ہے۔قریب کے شہر چنیوٹ اور لالیاں ہیں اور کسی قدر دور کے شہر چک جھمرہ، لائکپور اور سرگودہا ہیں۔دیمک غالباً اس علاقہ میں ہوگی۔کیونکہ چنیوٹ کی بیرونی آبادی میں دیمک پائی جاتی ہے۔زمین کے اندر کے پانی کا فاصلہ سطح زمین سے قریباً چالیس پچاس فٹ ہے۔درخت اس علاقہ میں عموماً ببول یعنی کیکر ہوتا ہے۔اوپر کے کوائف کو مدنظر رکھتے ہوئے جو دوست فن تعمیر کے ماہر ہوں وہ ذیل کے امور کے متعلق اپنا مشورہ بھجوا کر عنداللہ ماجور ہوں۔(۱) ہر سہ قسم کے مکانات ( یعنی کچے اور کچے پکے اور پکے ) کی تعمیر کے لئے کس قسم کا میٹریل دیواروں ، فرشوں ، دروازوں ، کھڑکیوں اور چھت وغیرہ کے لئے موزوں اور مناسب ہوگا۔جو کم خرچ بھی ہو اور بالانشین بھی۔فضول زیبائش کا کوئی سوال نہیں۔البتہ عمارت دیر پا اور واجبی آرام