مضامین بشیر (جلد 2) — Page 367
مضامین بشیر جب لڑائی ہو تو ایک اپنی دیوار کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرو جب مسلمانوں کی طرف سے پہل نہ ہونے کے باوجود دشمن مسلمانوں پر حملہ آور ہو جائے ، یا ایسے جارحانہ اقدامات کا آغاز کر دے جو حملہ کے مترادف سمجھے جائیں، تو پھر مسلمانوں کو خدا کا حکم ہے کہ ایسے دشمن کا اس طرح مقابلہ کرو کہ گویا تم ایک آہنی دیوار ہو جسے کوئی حملہ تو ڑ نہیں سکتا۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ۱۰۸ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانُ مُرْصوص یعنی اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی آہنی دیوار ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نہایت مختصر مگر نہایت ٹھوس اور جامع الفاظ میں ہدایت فرماتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے وقت مسلمان الگ الگ اینٹ کی صورت میں نظر نہیں آنے چاہئیں بلکہ اس آہنی دیوار کی طرح بن جانے چاہئیں جس کی اینٹوں کو اکٹھا جوڑ کر ان کے رخنوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا گیا ہو۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے لئے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے، جن میں سے ایک انفرادی ہے اور دوسری اجتماعی۔انفرادی بات یہ ہے کہ اس کی ہر اینٹ ایسی پختہ اور ایسی صاف اور ایسی مضبوط ہو کہ وہ نہ صرف ہر قسم کا دباؤ برداشت کر سکے۔بلکہ ایسا آہنی رنگ اختیار کر لے کہ پچھلے ہوئے سیسہ کے ساتھ مل کر بالکل ایک جان ہو سکے اور اجتماعی بات یہ ہے کہ اس کی اینٹیں سیسے کے گارے یعنی مارٹر (Mortar) کے ذریعہ اپنی انفرادیت کو کھو کر ایک چٹان کی صورت اختیار کر لیں اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت دو باتوں کے ذریعہ پیدا ہو سکتی ہے اور یہی دو باتیں وہ گا را یعنی مارٹر ہیں جن کی طرف قرآن شریف نے مرصوص ( سیسہ پلائی ہوئی ) کے الفاظ میں اشارہ کیا ہے اور وہ دو باتیں یہ ہیں (۱) باہمی تعاون و محبت اور ایک دوسرے کے لئے قربانی اور (۲) افسروں کی کامل فرما نبرداری۔ان دو چیزوں کے ساتھ ساتھ جو گویا اینٹوں کے لئے گارے یعنی مارٹر کا حکم رکھتی ہیں ، اگر کسی دیوار کو اینٹ بھی اچھی میسر آ جائے یعنی اس کے سپاہی انفرادی لحاظ سے بھی اعلیٰ صفات رکھتے ہوں تو پھر یقینا اس قسم کے مادے سے تیار شدہ دیوار ایک بُنْيَانٌ مَّرُ صُوصٌ ہوگی جسے دنیا کی کوئی طاقت تو ڑ نہیں سکتی۔