مضامین بشیر (جلد 2) — Page 363
۳۶۳ مضامین بشیر اسلامی ضابطہ جنگ خود پہل نہ کرو مگر ہر وقت تیار رہوا اور لڑائی میں ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرو پاکستان کے قیام کے ساتھ ضروری ہو گیا ہے کہ اہل پاکستان کو اس اصولی تعلیم کا علم ہو جو اسلام جنگی تیاری یا میدان کا رزار میں عہدہ برائی کے متعلق دیتا ہے۔اس لئے نہیں کہ پاکستان کو کسی جنگی اقدام میں پہل کرنی چاہئے۔بلکہ اس لئے کہ اگر کوئی دوسرا ملک پاکستان پر حملہ آور ہو یا ایسے اقدامات کرے جو بالواسطہ حملہ کے مترادف ہوں تو اس صورت میں ہر پاکستانی کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے ظالم دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔یہ مضمون نہایت وسیع ہے۔اور اگر اس کے سارے پہلوؤں پر مکمل نظر ڈالنی مقصود ہو تو یقیناً اس کے لئے ایک ضخیم کتاب کا حجم درکار ہوگا لیکن میں اس جگہ صرف چند اصولی باتوں تک اپنے آپ کو محدود رکھنا چاہتا ہوں اور ان باتوں کو بھی حتی الوسع نہایت اختصار کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔وما توفیقی الا بالله العظیم۔مسلمانوں کو جنگی اقدام میں کبھی پہل نہیں کرنی چاہئے سب سے پہلی ہدایت اس معاملہ میں اسلام یہ دیتا ہے کہ تم دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار تو ہر وقت رہو لیکن عملاً پہل کرنے سے ہمیشہ اجتناب کرو۔بلکہ دل میں بھی یہ خواہش نہ رکھو کہ دشمن کے ساتھ ہمیں جنگ پیش آئے۔ہاں دشمن کی طرف سے پہل کی جائے یا ایسے اقدامات وقوع میں آئیں جو پہل کرنے کے مترادف سمجھے جائیں تو پھر ڈٹ کر مقابلہ کرو اور ہر گز کمزوری نہ دکھاؤ۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔لَا تَتَمَنَّوا لفَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْتَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا - یعنی اے مسلمانو ! دشمنوں کے ساتھ لڑنے کی خواہش کبھی نہ کیا کرو اور ہمیشہ خدا سے امن و عافیت