مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 361 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 361

۳۶۱ مضامین بشیر گیا کیونکہ شیخو پورہ کے رستہ کا کچھ حصہ زیر آب تھا۔عصر کی نماز سے قبل تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس موقعہ پر پانچو کے قریب مردوزن کے اجتماع کے علاوہ ایک موٹر لا ری تھی اور پانچ کاریں اور چوبیس تانگے اور بہتیں سائیکل تھے۔اور ایک وسیع شامیانے کے علاوہ چھ عدد خیمے بھی نصب کئے گئے تھے۔شامل ہونے والے دوستوں کی فہرست انشاء اللہ صاف کر کے بعد میں شائع کی جائے گی۔یہ موقع سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص یادگاری موقع تھا ، جس میں دو قسم کے بظاہر متضا دلیکن حقیقتاً ایک ہی منبع سے تعلق رکھنے والے جذبات کا ہجوم تھا۔ایک طرف نئے مرکز کے قیام کی خوشی تھی کہ خدا ہمیں اس کے ذریعہ سے پھر مرکزیت کا ماحول عطا کرے گا اور ہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر اپنی تنظیم کے ماحول میں زندگی گزار سکیں گے اور دوسری طرف اس وقت قادیان کی یاد بھی اپنے تلخ ترین احساسات کے ساتھ دلوں میں جوش مار رہی تھی اور نئے مرکز کی خوشی کے ساتھ ساتھ ہر زبان اس ذکر کے ساتھ تازہ اور ہر آنکھ اس دعا کے ساتھ پُر نم تھی کہ خدا ہمیں جلد تر اپنے دائمی اور عالمگیر مرکز میں واپس لے جائے۔جیسا کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تقریر میں فرمایا ، اصل مرکز قادیان ہی ہے۔اور وہی قیامت تک احمدیت کا مرکز رہے گا لیکن جب تک قادیان کا مرکز واپس نہیں ملتا اس وقت تک یہ نیا مرکز قادیان کا قائمقام ہوگا اور اس کے بعد صرف اپنے علاقہ کا مرکز ہو جائے گا۔کیونکہ ظاہر ہے کہ احمدیت کی توسیع کے ساتھ مرکزی مرکز ( یعنی قادیان ) کے علا وہ مختلف ملکوں میں مقامی مرا کز بھی بنائے جانے ضروری ہوں گے۔اس غیر معمولی تقریب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے اس برکت سے بھی نوازا کہ قربانیوں کے بعد اور عصر کی نماز سے پہلے ایک نوجوان نے جو ترکستان سے آئے ہوئے تھے، حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح یہ خوش قسمت نوجوان نئے مرکز کا پہلا پھل قرار پا گیا۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر یہ بھی اعلان فرمایا کہ نئے مرکز کا نام ربوہ (Rabwah) تجویز کیا گیا ہے۔جس کے معنے بلند مقام یا پہاڑی مقام کے ہیں۔یہ نام اس نیک فال کے طور پر تجویز کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اس مرکز کو حق و صداقت اور روحانیت کی بلندیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنائے اور وہ خدائی نور کا ایک ایسا بلند مینار ثابت ہو جسے دیکھ کر لوگ اپنے خدا کی طرف راہ پائیں۔اس کے علاوہ ظاہری لحاظ سے بھی یہ جگہ ایک ربوہ کا حکم رکھتی ہے کیونکہ وہ اردگرد کے علاقہ اونچی ہے اور اس کے ساتھ بعض چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی ہیں۔گویا ایک پہلو میں چناب کا دریا ہے جو پانی یعنی ذریعہ حیات کا منظر پیش کرتا ہے ، اور دوسرے پہلو میں بعض پہاڑیاں ہیں جو بلندی کی ނ