مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 25 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 25

۲۵ مضامین بشیر اور سردی کے زمانہ کی موٹی دلدار رضائی کے ہوتے ہوئے کون عقلمند خیال کر سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم کو چھوتے تھے۔پس خود روایت کے الفاظ ہی معترض کے اعتراض کو رد کر رہے ہیں۔علاوہ اس کے اگر ہمارے مخالفوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ اعتراض ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس حدیث کی کیا تشریح کریں گے کہ :- كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عِبَادَة بُنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَاطعَمَتُهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِى رَأسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ۔۔۔۔د یعنی مدینہ میں ایک صحابیہ عورت ام حرام عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے تو وہ گھر میں جو کچھ حاضر ہوتا تھا آپ کے کھانے کے لئے پیش کیا کرتی تھیں۔چنانچہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے حسب طریق کھانا پیش کیا اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سر سہلانے لگ گئیں جس طرح کہ ایک جوئیں دیکھنے والی عورت بالوں کو سہلاتی ہے اور اسی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔“ پس جس طرح یہ نیک بخت بوڑھی صحابیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو سہلا سکتی تھیں اور آج تک کسی شریف زادہ نے اس روایت پر اعتراض نہیں کیا اور ہر مسلمان اس حدیث کو پڑھتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہوئے آگے سے گذر جاتا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ شریف زادوں والا سلوک کیوں روا نہیں رکھا جاتا۔اور کیوں آپ کے معاملہ میں اپنے خبیث باطن کے آئینہ میں اپنی ہی شکل دیکھ کر اعتراض جما دیا جاتا ہے۔سچ ہے کہ المرء بقيس على نفسه یعنی بد انسان اپنی بدفطرتی کی وجہ سے نیک انسان کے متعلق بھی برا خیال ہی دل میں لاتا ہے۔اس کے علاوہ کیا ہمارے معترضوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بائیبل کا یہ حوالہ بھول گیا ہے کہ : - وو دیکھو ایک بد چلن عورت جو اس شہر کی تھی۔یہ جان کر کہ مسیح اس فریسی کے گھر کھانا کھانے بیٹھا ہے۔سنگ مرمر کی عطر دانی میں عطر لائی اور اس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر اس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی۔اور اپنے سر