مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 355 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 355

۳۵۵ مضامین بشیر بہت بڑھ چڑھ کر۔مگر پھر بھی حدیث سے ثابت ہے کہ بعض دوستوں اور عزیزوں کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کی آنکھیں بھی پُر نم ہو جاتی تھیں۔بلکہ ایک موقع پر تو آپ کے آنسو آپ کی ریش مبارک تک بہ بہ کر پہنچ گئے تھے۔تو جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دل وگردہ والے انسان کا یہ حال ہے تو ہم جیسے کمزور لوگ کس شمار میں ہیں جن کو نہ ویسا ایمان حاصل ہے اور نہ ویسا ضبط نفس۔پس ہم نہایت درد بھرے اور بے حد زخمی دل کے ساتھ اپنے اس عزیز نوجوان کی وفات پر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہتے ہیں ، كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ 8 عزیز مرزا منور احمد مرحوم کو میں بچپن سے جانتا تھا اس لئے بھی کہ وہ ہمارے قریبی عزیزوں میں سے تھے یعنی ہماری ممانی صاحبہ کے بھائی اور ہماری ایک بھا وجہ صاحبہ کے ماموں تھے اور اس لئے بھی کہ مرحوم کا بچپن سے میرے ساتھ خاص تعلق تھا۔پس میں یہ بات بغیر کسی قسم کے مبالغہ کے کہہ سکتا ہوں کہ مرحوم ایک بہت مخلص اور نیک اور ہونہار اور محبت کرنے والا اور جذ بہ خدمت وثمر بانی سے معمور نو جوان تھا۔دن ہو یا رات دھوپ ہو یا بارش جب بھی انہیں کوئی ڈیوٹی سپرد کی جاتی تھی وہ کمال مستعدی اور اخلاص کے ساتھ اس ڈیوٹی کو سر انجام دینے کے لئے لبیک لبیک کہتے ہوئے آگے آ جاتے تھے اور پھر اپنے مفوضہ کام کو اس درجہ توجہ اور سمجھ کے ساتھ سرانجام دیتے تھے کہ دل خوش ہو جا تا تھا اور زبان سے بے اختیار دُعا نکلتی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی نیکی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زندگی وقف کرنے اور پھر بلا د ا مریکہ میں وطن سے بارہ ہزار میل دور جا کر فریضہ تبلیغ بجا لانے کی سعادت عطا کی۔موت تو ہر انسان کے لئے مقدر ہے مگر مبارک ہے وہ نو جوان جسے یہ سعادت کی زندگی عطا ہوئی اور مبارک ہیں وہ والدین جنہیں خدا نے ایسا نیک اور خادم دین بچہ عطا کیا۔عزیز مرحوم کے والد یعنی مرزا محمد شفیع صاحب مرحوم نے جب اپنی آخری بیماری دتی کے ہسپتال میں جا کر کاٹی تو بیماری کے لمبا ہو جانے کے باوجود منور مرحوم نے ان کی خدمت میں دن رات ایک کر دیا اور اپنے ضعیف العمر اور نیک باپ کی آخری دعائیں حاصل کیں۔پھر جب مرحوم کی والدہ صاحبہ گزشتہ فسادات کے نتیجہ میں قادیان چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور منور مرحوم کو یہ بھی اطلاع پہنچی کہ والدہ کے باہر آجانے کے بعد ان کا بڑا بھائی قادیان میں شہید ہو گیا ہے تو منور نے ماں کی تکلیف کا خیال کر کے انہیں میرے واسطے سے تار کے ذریعہ امریکہ سے ایک رقم بھجوائی جو ایک دوست سے قرض لے کر بھجوائی گئی تھی اور مرحوم نے مجھے لکھا کہ اب میری والدہ صاحبہ اکیلی ہیں اور سامان قادیان میں کٹ چکا ہے اس لئے بھائی کی وفات کے بعد انہیں کئی قسم کی ضرورتیں لاحق ہونگی۔پس