مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 354 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 354

مضامین بشیر ۳۵۴ عزیز مرزا منو را حمد مرحوم مبلغ امریکہ اپنے خدا کی تلخ تقدیروں کو بھی صبر کیسا تھ قبول کرو آج مغرب کی اذان سے قبل لندن کی ایک تار سے معلوم ہوا کہ عزیز مرزا منور احمد مبلغ امریکہ ایک آپریشن کے نتیجہ میں وفات پاگئے ہیں إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مجھے ان کی بیماری کا آج سے صرف پانچ دن قبل علم ہوا اور اس کے ساتھ ہی یہ اطلاع بھی پہنچی کہ ڈاکٹروں نے فوری آپریشن کا مشورہ دیا ہے کیونکہ معدہ کے اندر رسولی پائی گئی ہے جس کا فوراً نکالنا ضروری ہے۔طبعاً اس اطلاع سے بہت فکر لاحق ہوا مگر خدا نے انسانی فطرت میں امید کے پہلو کو غالب رکھا ہے اس لئے اس بھاری فکر کے با وجود دل اس خواہش اور امید سے پُر تھا کہ خدا اپنا فضل فرمائے گا اور انشاء اللہ ہمارے اس نو جوان عزیز کو صحت ہو جائے گی لیکن آج شام کی اچانک تار نے خدا کی تلخ تقدیر کو عریاں کر کے سامنے رکھ دیا اور زبان پر بے ساختہ یہ الفاظ آئے کہ إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ الفاظ کیسے ماحول کے لئے مقرر کئے گئے ہیں مگر کس قدر شیریں اور کس قدر رحمت کے جذبہ سے محصور ہیں۔خدا فرماتا ہے کہ میرے بندو! بے شک تمہیں ایک بھاری صدمہ پہنچا ہے مگر تمہارا اصل تعلق تو میرے ساتھ ہے نا ؟ اور دیکھو میں تمہارے سروں پر زندہ موجود ہوں۔پس اس صدمہ کے وقت بھی میری محبت اور میرے تعلق میں راحت و تسکین پانے کی کوشش کرو۔اور پھر دیکھو تم سب نے بالآخر میرے پاس جمع ہی ہونا ہے پس فکر نہ کر و۔کیونکہ آج کا بچھڑا ہوا عزیز تمہیں عنقریب پھر مل جائے گا اور تم سب جو نیک ہو بہت جلد میری رحمت کے سایہ کے نیچے جمع ہو جاؤ گے۔یہ الفاظ کس قدر محبت کس قدر شفقت اور کس قدر رحمت کے جذبہ سے معمور ہیں مگر پھر بھی جدائی کی تلخی خواہ یہ جدائی کتنی ہی عارضی ہو بہر حال ایک تلخی ہے اور انسانی فطرت تلخیوں کے احساس سے کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتی۔خدا کی ہستی اور آخرت کی حقیقت پر سب سے زیادہ ایمان لانے والا وجود ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک وجود تھا جن کے لئے گویا یہ دونوں باتیں اس طرح آنکھوں کے سامنے تھیں جس طرح کہ دنیا کی مادی چیزیں ہماری جسمانی آنکھوں کے سامنے محسوس مشہور ہوتی ہیں بلکہ ان سے بھی