مضامین بشیر (جلد 2) — Page 314
مضامین بشیر ۳۱۴ سعد اللہ جان صاحب ایڈووکیٹ مردان توجہ فرمائیں تمام محکمانہ چٹھیاں افسران متعلقہ کے عہدہ کے پتہ پر آنی چاہئیں ایک صاحب محترمی سعد اللہ جان صاحب ایڈووکیٹ مردان صوبہ سرحد جو اتفاق سے میرے شاگر د بھی واقع ہوئے ہیں۔اس لئے مجھے ان کی غلطی پر دوہری حیرانی ہے۔اپنی ایک زمین کے تنازعہ کے تعلق میں جو ناظم صاحب جائیداد اور ان کے درمیان رونما ہے۔مجھے ناظر اعلیٰ جماعت احمد یہ خیال کرتے ہوئے میرے نام کے ساتھ ناظر اعلیٰ کا عہدہ لکھ کر چٹھیاں ارسال فرماتے رہتے ہیں اور چونکہ میں ناظر اعلیٰ نہیں ہوں اور اس معاملہ میں بالکل لاتعلق ہوں۔مجھے یہ چٹھیاں پوسٹ آفس کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے ناظم صاحب جائیداد کو بھجوانی پڑتی ہیں۔جس کی وجہ سے لامحالہ دیر واقعہ ہوتی اور پیچیدگی بھی پیدا ہوتی ہے۔پس میں اس اخباری اعلان کے ذریعہ محترمی سعد اللہ جان صاحب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ناظر اعلیٰ نہیں ہوں۔بلکہ قریباً ڈیڑھ سال سے اس عہدہ سے الگ ہوں اور اگر بالفرض میں ناظر اعلیٰ ہوتا بھی تو پھر بھی اصولاً یہ درست نہیں کہ محکمانہ چٹھیاں کسی فرد کے نام پر بھجوائی جائیں۔بلکہ ہر چٹھی عہدہ کے پتہ پر جانی چاہئے اور پتہ میں نام کا اندراج نہیں ہونا چاہئے۔ورنہ وصول کنندہ کی بجائے فریسندہ کا زیادہ نقصان ہوگا۔یہ غلطی بعض دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔مگر اس کا سب سے زیادہ ارتکاب صوبہ سرحد کے دوستوں کی طرف سے ہوتا ہے اور مجھے اس صوبہ پر رحم آتا ہے کہ یہ صوبہ جو بعض لحاظ سے سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے بلا وجہ میرا نام درمیان میں لا کر سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے۔صحیح طریق یہ ہے کہ جس صیغہ سے کسی معاملہ کا تعلق ہو۔اس صیغہ کے افسر یا ناظر کو بحیثیت عہدہ چٹھی لکھی جائے (نہ کہ نام پر ) پھر اگر وہ صیغہ توجہ نہ دے۔تو ایک دو دفعہ یاددہانی کے بعد ناظر اعلیٰ کو لکھا جائے اور اگر ناظر اعلیٰ کی طرف سے بھی عدم تو جہی رہے تو پھر حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا جائے۔اس کے علاوہ کوئی اور طریق اختیار کرنا اپنے کام کو خود نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔۔been warned have You ( مطبوعه الفضل ۱۲ راگست ۱۹۴۸ء)