مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 311 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 311

۳۱۱ مضامین بشیر عالمگیر اور دائمی رنگ رکھتے ہیں اور ناممکن ہے کہ کوئی شخص اس مقناطیس کے ساتھ چھو کر (بشرطیکہ نیت بخیر ہو ) یا اسکے ساتھ چھونے والوں کے ساتھ چھو کر روحانی برکات سے محروم رہے :۔۹۳ وقال الله تعالى أُولَئِكَ لَا يَشْقى جليسُهُم مِن عِلم وتعلم یہ لوگ ان آسمانی ستاروں کا حکم رکھتے ہیں۔جو ہر روحانی سورج کے اردگرد چکر کھانے کے لئے ازل سے مقدر ہیں۔اور مبارک ہے وہ جو ان کی قدر کو پہچانتا اور ان کے نور سے نور حاصل کرنے اور ان کی روشنی سے روشنی پانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو وہ ارفع شان ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اترے ہوئے کپڑوں کے متعلق فرماتا ہے کہ :۔۹۴ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ ینگے تو جب بے جان کپڑوں اور جلد یا بدیر پھٹ کر ختم ہو جانے والے پار چات کی برکات کا یہ حال ہے تو ان جاندار اور ہمیشگی کی رُوح رکھنے والے انسانوں کی برکت کی کیا شان ہوگی جو خدا کے ایک مقدس رسول کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے اور اس کے سرچشمہ سے براہ راست سیراب ہوتے اور اس کے روحانی تعلق کو اپنے قلوب میں ہمیشگی کی زندگی عطا کرتے ہیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی روزانہ دعاؤں میں صحابہ کے مقدس گروہ کو بھی یادرکھیں۔اور ان کی عمر کی درازی اور ان کے برکات کی توسیع کے لئے خدا سے ہمیشہ دست بدعا ہیں۔سو سابقہ گیارہ دعاؤں کے ساتھ مل کر یہ گو یا کل بارہ دعائیں ہو جاتی ہیں جو ہمیں ہمیشہ یا د رہنی چاہئیں۔یہ سوال کہ صحابی کسے سمجھا جائے ایک اختلافی مسئلہ ہے اور مختلف علماء نے صحابی کی الگ الگ تعریف کی ہے۔میں کوئی عالم تو نہیں ہوں مگر میں اپنے ذوق کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی کی یہ تعریف کیا کرتا ہوں کہ :۔صحابی وہ ہے جس نے احمدی ہونے کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو " دیکھا ہو یا آپ کا کلام سنا ہو اور اسے آپ کو دیکھنا یا آپ کا کلام سننا یا د ہو۔“ بعض دوسرے لوگوں کی تجویز کردہ تعریف، اس تعریف سے کمزور تر اور وسیع تر ہے۔لیکن اس کے مقابل پر بعض دوسرے علماء ایسے بھی گزرے ہیں۔جنہوں نے اس تعریف کی نسبت زیادہ سخت اور زیادہ تنگ دائرے والی تعریف کو ترجیح دی ہے۔مثلاً وسیع دائرے والی تعریف یہ کی گئی ہے کہ:۔وہ جس نے رسول کو مومن ہونے کی حالت میں دیکھا ہو ( یا اس کا کلام سنا ہو ) یا وو رسول نے اسے اس کے مومن ہونے کی حالت میں دیکھا ہو“ اس تعریف میں گویا ایسے نابالغ بچے بھی آجاتے ہیں ، جنہیں خود رسول کا دیکھنا یا دنہیں ہوتا۔مگر