مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 306 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 306

مضامین بشیر ۳۰۶ رمضان میں کمزوری دور کرنے کے عہد کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ کمزوری کی نوعیت کا اظہار منع ہے نہ کہ کمزوری دور کرنے کے عہد کا اظہار کئی سال ہوئے میں نے حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم کی ایک روایت کی بنا پر جماعت میں یہ تحریک کی تھی کہ جن دوستوں کو خدا توفیق دے ، وہ رمضان میں اپنی کسی ایک کمزوری کے ترک کرنے کا عہد کیا کریں اور پھر اس عہد کو عمر بھر نبھانے کی کوشش کریں تا کہ اصلاح نفس کے اس ذریعہ سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے۔یہ تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تجویز کے مطابق تھی۔جو حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم نے حضور سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی اور کئی سال ہو گئے ، میں نے ناظر تعلیم و تربیت کی حیثیت میں اسے جماعت کے سامنے پیش کر کے دوستوں کو اس تحریک سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ بھی دلائی تھی۔چنانچہ بعض گزشتہ رمضانوں میں ایسے دوستوں کی فہرست دعا کی غرض سے حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کی جاتی رہی ہے اور حضور انہیں اپنی دعا سے مشرف فرماتے رہے ہیں اور بیسیوں دوستوں نے مجھ سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس تحریک سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔مگر مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض دوستوں کو اس تحریک کے متعلق یہ اعتراض ہے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشا دل میں عہد کرنے کا تھا۔اس لئے اس کے متعلق کسی قسم کا اظہار بھی نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ صرف دل میں خدا سے عہد باندھ کر اسے خاموشی کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔اور یہ بات بھی ظاہر نہ کی جائے کہ میں نے ایسا عہد باندھا ہے مگر جیسا کہ میں ذیل کی سطور میں بتاؤں گا یہ خیال درست نہیں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ منشا نہیں ہے جو سمجھا گیا ہے۔دراصل جس بات کا اظہار نا پسندیدہ ہے وہ صرف یہ ہے کہ کمزوری کی نوعیت ظاہر کی جائے مثلاً یہ بتایا جائے کہ مجھ میں جھوٹ بولنے کی عادت ہے، یا یہ کہ میں نماز میں سست ہوں یا یہ کہ میرے اندر چغل خوری کا عیب ہے۔یا یہ کہ میں چوری کے گناہ میں مبتلا ہوں وغیرہ وغیرہ۔کیونکہ ایسا اظہا ر خدا کی صفت ستاری کے خلاف ہے اور اکثر صورتوں میں بدی کو مٹانے کی بجائے بدی کی اشاعت اور تحریک