مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 18 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 18

مضامین بشیر ۱۸ اسلام کی محبت بھری غلامی میں کھینچا تھا اور اب یہ اچھی وفاداری نہیں ہے کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر کو ہندوؤں کی غلامی میں چھوڑ جائیں پھر یہاں سے اٹھ کر میری نظر ہوا میں اڑتی ہوئی گولکنڈا اور حیدر آباد کی چٹانوں تک پہنچی جہاں مجھے کئی اسلامی بادشاہوں اور مسلمان درویشوں کی قبروں نے اپنی طرف بلایا کہ آج کے دھندے میں کل کے گزرے ہوئے بزرگوں کو نہ بھول جانا کہ ان کی ہڈیاں بھی کچھ حق رکھتی ہیں اور پھر اس سے آگے میں نے میسور اور جنوبی ہندوستان کے میدانوں پر نگاہ ڈالی تو حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے اپنی قبروں سے اٹھ کر مجھ سے گلہ کیا کہ ہم نے اپنے وقت میں مٹھی بھر مسلمانوں کو ساتھ لے کر سارے ہندوستان کے لئے جان کھو دی اور تم دس کروڑ جانباز ہوکر ہند وستان کے ایک کو نہ میں سمٹ کر بیٹھنا چاہتے ہو۔اگر ہمیں بھول گئے ہو تو کم از کم شیر شاہ سوری کے اس جرنیل رستہ پر نگاہ ڈالو جو پشاور سے بنگال کو ملاتا تھا۔اور چپہ چپہ پر شاہی سراؤں کی آہنی میخیں گاڑتا چلا جاتا تھا۔اس کے ساتھ ہی مجھے حال کے زمانہ میں علی گڑھ کی مرکزی اسلامی یونیورسٹی کی طرف بھی خیال گیا جو پاکستان کے علیحدہ ہو جانے سے صرف ہندو گڑھ کی زینت ہو کر رہ جائے گی اور یقیناً ایک چھوٹا سا صحرائی نخلستان جو اپنے آب رسانی کے منبع سے جدا ہو جائے زیادہ دیر تک تر و تازہ نہیں رہ سکتا۔(۶) ان خیالات نے مجھے اس گہری سوچ میں ڈال دیا کہ انسانی زندگی کے متعلق اسلام کا نظریہ کیا ہے؟ کیا اسلام خطرے کے موقع سے ہٹ کر گھر میں محصور ہو جانے کو پسند کرتا ہے یا کہ زندگی کی کش مکش میں کود کر آگے بڑھتے چلے جانے کو ؟ اس وقت مجھے اپنے پیارے آقا فداہ نفسی کا یہ قول یاد آیا كه لا رهبانية فی الاسلام۔۔۔۔میں نے خیال کیا کہ بظاہر یہ ارشاد افراد کے لئے ہے مگر اس میں یہ عظیم الشان قومی راز بھی مخفی ہے کہ اسلام اس طریق کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا کے خطرات سے ڈر کر انسان کسی پہاڑ کی چوٹی یا کسی جنگل کے پیڑیا کسی خانقاہ کے حجرہ یا کسی مکان کے گوشہ میں تنہا بیٹھ کر اپنی جان کی خیر منانے لگ جائے بلکہ وہ انسانوں کو زندگی کی کش مکش میں دھکیل کر حکم دیتا ہے کہ مرد میدان بن کر ان خطرات کا مقابلہ کرو اور اپنی قوت بازو سے دشمن کو زیر کرتے ہوئے اپنی ترقی کا رستہ کھولتے چلے جاؤ کیونکہ اسلامی نظریہ ہے کہ جو سمٹا وہ بیٹھا اور جو پیچھے ہٹا وہ گرا اور جو گرا وہ مرا۔پھر مجھے خلفاء راشدین کے سب سے بڑے سیاستدان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ قول بھی یاد آیا کہ جب میں مکہ میں مسلمان ہوا۔لم ازل أضْرَب وأضُرِب فى سِكَك مكة۔۔۔یعنی اس وقت سے میں گھر میں نہیں ٹھہرا بلکہ مکہ میں گلیوں میں پھرتا ہوا پیٹتا اور پیٹتا ہی رہا حتی کہ خدا اسلام کی فتح کا دن لے آیا میں اپنے آقا اور اس کے مدبر صحابی کے ان قولوں کو یاد کر کے اس خیال سے بے چین ہونے لگا کہ بے شک ہندوستان کا مسلمان کمزور بھی ہے اور مظلوم بھی مگر کہیں پاکستان کا تصور قومی رہبانیت کا