مضامین بشیر (جلد 2) — Page 17
۱۷ مضامین بشیر نیشنلزم کے پردہ میں مستور رہتی ہے مگر مسلمان فرقہ وارانہ سوال اٹھانے کے بغیر اپنی قوم کی حفاظت نہیں کرسکتا، اسے بالکل ننگا ہو کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ چیز مسلمانوں کو دو۔پس بسا اوقات وہ مظلوم ہوتے ہوئے بھی فرقہ وارانہ زہر کے پھیلانے کا مجرم سمجھا جاتا ہے۔ان میں سے ایک ملک کے نام پر مانگتا ہے اور بے لوث محب وطن سمجھا جا کر اپنی غرض پوری کر لیتا ہے مگر دوسرا اپنے فرقہ کے نام پر مانگنے کے لئے مجبور ہے، اس لئے ہمیشہ بدنام ہوتا ہے اور اکثر دھتکارا بھی جاتا ہے۔یہ وہ کھیل ہے جسے انگریز ذہنیت آج تک نہیں سمجھ سکی وہ ہندو کو فراخ دل نیشنلسٹ سمجھتی ہے اور مسلمان کو تنگ دل کمیونسٹ مگر مطالبہ پاکستان کا مطالبہ اس سٹیج پر سے جلد جلد پردہ اٹھا رہا ہے۔کیونکہ پاکستان کے قائم ہوتے ہی اسلامی صوبوں میں ہندو ذہنیت اسی طرح بے نقاب ہونی شروع ہو جائے گی جس طرح آج ہندو اکثریت کے راج میں مسلمانوں کی ذہنیت بے نقاب ہو رہی ہے۔بہر حال میں نے اس رات کی بے چینی میں سوچا کہ ہندوستان کا سوال صرف اصل سیاسی مسئلہ کے لحاظ سے ہی مشکل نہیں ہے۔بلکہ مختلف قوموں کے دلائل کو سمجھنے اور ان کی حقیقت تک پہنچنے کے لحاظ سے بھی بہت پیچدارہے۔(۵) ایک اور مشکل میرے ذہن میں یہ آئی کہ ہندوستان کا چپہ چپہ اسلامی یادگاروں سے بھرا پڑا ہے اگر یہاں کسی گذشتہ اسلامی بزرگ کا مزار ہے، جس کے انفاس قدسیہ کی برکت سے ہزاروں لاکھوں ہندوؤں نے اسلام کی روشنی حاصل کی تو وہاں کسی مسلمان بادشاہ یا رئیس کی بنائی ہوئی شاندار مسجد ہے جس کی ایک ایک اینٹ اسلامی شوکت اور بنانے والے کی للہیت کا پتہ دے رہی ہے۔پھر اگر اس جگہ اسلامی حکومت کے زمانہ کا کوئی عظیم الشان قلعہ ہے جو اسلام کی مٹی ہوئی طاقت کی یاد کو زندہ رکھ رہا ہے۔تو اُس جگہ کسی مسلمان نقاش کے ہاتھ کا بنا ہوا مسحور کن باغ ہے جس کی وسعت و زینت غیور مسلمانوں کے دلوں پر ایک نہ مٹنے والا نقش قائم کر رہی ہے اور یہ زندہ اور زندگی بخش یادگاریں ہندوستان کے شمال سے لے کر جنوب تک اور مغرب سے لے کر مشرق تک اس طرح پھیلی ہوئی ہیں کہ جس طرف بھی نظر اٹھا ؤ وہاں کا منظر اس مصرع کی تفسیر نظر آتا ہے کہ کرشمہ دامن دل می کشد که جا این است میری نظر دتی کی شاہی مسجد اور لال قلعہ اور قطب مینار اور حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار اور ہمایوں کے مقبرہ اور حضرت شاہ ولی اللہ کی قبر سے اٹھ کر آگرہ کے تاج اور سکندرہ کے گنبدوں کے ساتھ لپٹی ہوئی راجپوتانہ کے وسط میں حضرت شاہ معین الدین اجمیری کے مزار پر پہنچی اور میرے دل نے کہا کہ بے شک اس وقت پاکستان کے مطالبہ نے مسلمانوں میں سیاسی اتحاد پیدا کرنے میں بہت بڑا کام کیا ہے مگر یہ بزرگ جو اس مٹی میں دفن ہے۔اس نے بھی اپنے وقت میں لاکھوں ہندوؤں کو