مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 243 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 243

۲۴۳ مضامین بشیر کو معلوم ہو جاتا تھا کہ مثلاً عصر کی نماز پڑھی جا رہی ہے اور اس نے ابھی ظہر کی نماز نہیں پڑھی ہوئی تھی تو پھر بھی وہ امام کے ساتھ شامل ہو جاتا تھا اور اپنی چھوڑی ہوئی ظہر کی نماز بعد میں پڑھتا تھا۔سوسوال نمبر اول کے جواب میں تحریر ہے کہ میں نے خود یہ فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے سنا تھا اور کئی دفعہ سنا تھا کہ نمازوں کے جمع کئے جانے کی صورت میں اگر کوئی شخص بعد والی نماز میں شامل ہو اور اس نے ابھی پہلی نماز نہ پڑھی ہو تو پھر بھی اسے چاہئے کہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور اپنی چھوڑی ہوئی نماز بعد میں پڑھ لے۔یہ فتویٰ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں دوسرے سوال کے متعلق مجھے کبھی ذاتی طور پر تو یہ موقع پیش نہیں آیا کیونکہ میں ہمیشہ شروع ہی میں شامل ہو جایا کرتا تھا مگر کئی دوست جو بعد میں دوسری نماز کے وقت آکر شامل ہوتے تھے ان کا اسی پر عمل تھا کہ باوجود اس کے کہ ان کو یہ علم ہو جاتا تھا کہ یہ دوسری نماز ہے۔وہ امام کے ساتھ فورا شامل ہو جاتے تھے اور باقی چھوٹی ہوئی نماز بعد میں علیحدہ پڑھ لیتے تھے۔اور ایسا کبھی نہ ہوتا تھا کہ وہ اس علم کے بعد کہ مثلاً امام اس وقت عصر کی نماز پڑھا رہا ہے۔وہ علیحدہ کھڑے ہو کر ظہر کی نماز شروع کر دیں اور اس کے بعد عصر کی نماز پڑھیں اس معاملہ میں بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے یہ فتویٰ سنا ہوا ہے کہ بہر حال امام کے ساتھ شامل ہونے کو مقدم کرو۔میں یہ امر مفہوماً عرض کر رہا ہوں۔اصلی الفاظ مجھے یاد نہیں ) اور اس پر جماعت قادیان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی عمل تھا۔سوائے ان خاص حالات کے کہ کسی کو اس فتویٰ کا علم ہی نہ ہوا ہو۔میں یہ بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جب بعد میں بعض احمد یوں میں اس کے خلاف عمل شروع ہوا اور انہوں نے امام کے ساتھ شامل ہونے کی بجائے علیحدہ نماز پڑھنے کو ترجیح دی تو میں نے اس کے متعلق حضرت مولوی شیر علی صاحب مرحوم سے ذکر کیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فتویٰ اور حضور کے زمانہ کے تعامل کے خلاف ہے تو انہوں نے مجھ سے اتفاق کیا۔اور میری روایت کی تصدیق کی مگر اپنی کسر نفسی کی وجہ سے اس بات کے لئے تیار نہ ہوئے کہ اسے اخبار میں