مضامین بشیر (جلد 2) — Page 13
۱۳ مضامین بشیر حاصل ہوا ور ( ج ) مافی الضمیر کے بدلنے کی آزادی یعنی اگر کوئی انسان اپنے ذاتی مطالعہ یا کسی دوسرے شخص کی تبلیغ کے نتیجہ میں اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہواور اس اختیار میں اس کے اپنے نابالغ بچے یا ایسے نابالغ عزیز جن کے اخراجات کا وہ متحمل ہے شامل سمجھے جائیں۔یہ تینوں چیزیں انسانی ضمیر کی آزادی کا لازمی حصہ ہیں اور ہندوستان کے آئندہ دستور اساسی میں صراحت اور تفصیل کے ساتھ شامل ہونی چاہئیں ورنہ خواہ ہندوستان کو پاکستان اور ہندوستان کی صورت میں آزادی ملے یا صرف اکھنڈ ہندوستان کی صورت میں اور خواہ برطانوی ہندوستان کا سوال ہو یا کہ ریاستی ہندوستان کا جب تک کہ غلامی کی اس بدترین صورت کو جو ضمیر کشی سے تعلق رکھتی ہے کچلا نہ جائے گا ہندوستان کو کبھی بھی حقیقی آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس وقت بظاہر یہ ایک مذہبی سوال سمجھا جاتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اپنے بنیادی اصول کے لحاظ سے یہ سوال صرف مذہبی نہیں ہے بلکہ حریت انسانی کا پہلا مطالبہ ہے۔جو اپنے آئندہ شاخسانوں کے لحاظ سے ہر قسم کی ذہنی نشو و نما کے لئے ایک جیسا ضروری ہے۔خواہ وہ مذہبی ہو یا علمی یا تمدنی۔یہ خیال کرنا کہ مذہبی آزادی کے اصول کو اجمالی طور پر تسلیم کر لینے میں ساری بات خود بخود آ جاتی ہے، ہرگز درست نہیں۔ایسے امور میں اجمال کو دخل دینا فتنہ کا بیج بونا ہے۔پس آئندہ دستور اساسی میں خواہ وہ سارے ہندوستان سے تعلق رکھنے والا ہو یا اس کے ایسے حصوں کے ساتھ جن میں وہ آئندہ تقسیم کیا جائے۔اوپر کی تینوں چیزیں (یعنی مذہب کی آزادی اور تبلیغ مذہب کی آزادی اور تبدیلی مذہب کی آزادی ) صراحت اور تعیین کے ساتھ شامل ہونی چاہیئے۔انگریزوں نے خواہ بقول شخصے دوسرے میدانوں میں ہندوستانیوں کا کتنا ہی گلا گھونٹا ہو مگر اس میں شبہ نہیں کہ مذہبی آزادی کے معاملہ میں انہوں نے قابل تعریف فراخدلی سے کام لیا ہے۔اور ایک مذہبی جماعت کے لئے یہ سب سے بڑی چیز ہے۔اس کے علاوہ اس جہت سے بھی ہندوستان کے لئے تبلیغ و تبدیلی مذہب کا سوال اہم ہے کہ اس کے ذریعہ سے آئندہ چل کر ملک کے اتحاد بلکہ ملک کے اندر بسنے والی قوموں کے ایک ہو جانے کا رستہ کھلتا ہے جو دوسری صورت میں بالکل ناممکن ہو جائے گا۔(۲) اس کے بعد میرا خیال مسلمانوں کے مطالبہ پاکستان کی طرف گیا جو آج کل ہندوستانی سیاست کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔میں نے خیال کیا کہ دراصل پاکستان کے تصور کی ذمہ داری بڑی حد تک ہندو بھائیوں پر عائد ہوتی ہے۔ہندوؤں نے کبھی بھی ٹھنڈے دل سے اس بات کو نہیں سوچا کہ خواہ ہند و مسلمان ایک ملک میں دوش بدوش رہتے ہیں اور اس لحاظ سے لازماً ان کا کئی باتوں میں اتحاد ہونا چاہیئے مگر مسلمانوں کا مذہب اور تمدن اور قومی ضروریات ہندوؤں سے اس قدر جدا ہیں کہ جب