مضامین بشیر (جلد 2) — Page 236
مضامین بشیر ۲۳۶ قادیان سے تشریف لاتے ہوئے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کا جماعت احمد یہ قادیان کے نام الوداعی ارشاد جیسا کہ میں قادیان ڈائری میں شائع کر چکا ہوں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایده اللہ تعالیٰ ۳۱ / اگست ۱۹۴۷ء کو قادیان سے لاہور تشریف لائے تھے۔آپ کیپٹن ملک عطاء اللہ صاحب آف دوالمیال کی اسکورٹ میں قریبا ایک بجے احمد یہ چوک قادیان میں موٹر میں سوار ہوئے اور پھر سوا ایک بجے کوٹھی دارالسلام قادیان سے بذریعہ موٹر لاہور کی طرف روانہ ہو کر 4۔30 بجے کے قریب شیخ بشیر احمد صاحب امیر مقامی جماعت احمد یہ لاہور کے مکان پر بخیر و عافیت پہنچ گئے۔کوٹھی دارالسلام میں حضور کو الوداع کہنے کے لئے خاکسار مرزا بشیر احمد اور عزیزان مرزا مبارک احمد اور مرزا منور احمد اور میاں عباس احمد خان جو حضور کے ساتھ ہی شہر سے کوٹھی دار السلام میں آئے تھے اور ان کے علاوہ عزیز مرزا ناصر احمد اور شاید ایک دو اور عزیز جو کوٹھی دار السلام میں شامل ہوئے تھے، موجود تھے اور ہمارے خاندان کی خواتین میں سے اس وقت حضرت سیدہ ام المتین صاحبہ حرم ثالث اور عزیزہ منصورہ بیگم سلمہا حضور کے ہمراہ تھیں۔باقی خواتین ۲۵ اگست والے کا نوائے میں پہلے ہی لاہور پہنچ چکی تھیں۔قادیان سے روانہ ہونے سے قبل بلکہ ۳۰ راگست کی رات کو ہی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جماعت قادیان و جماعت ضلع گورداسپور کے نام پیغام لکھ کر دیا تھا اور ہدایت فرمائی تھی کہ حضور کے روانہ ہونے کے بعد میں اسے جماعت تک پہنچا دوں۔چنانچہ میں نے یہ پیغام نقل کروا کے مغرب اور عشاء کی نمازوں میں تمام احمدی مساجد میں پہنچا دیا۔یہ اعلان جو ایک تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتا ہے، دوستوں کی اطلاع کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔یہ بات بھی قابل نوٹ ہے کہ قادیان میں ٹھہر نے والوں کی تعداد کے متعلق حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ابتدائی تجویز بعد میں لاہور والی مجلس مشاورت کے مشورہ کے نتیجہ میں بدل گئی تھی۔خاکسار۔مرزا بشیر احمد رتن باغ لاہور