مضامین بشیر (جلد 2) — Page 235
۲۳۵ مضامین بشیر کی رغبت دل میں ڈالتا ہے۔لیکن خدا نے داعی خیر کو غلبہ دیا کہ اس کی تائید میں عقل عطا کی اور اپنا کلام نازل کیا اور خوارق اور نشان ظاہر کئے اور ارتکاب جرائم پر سخت سخت سزائیں مقرر کیں۔سوخدا تعالیٰ نے انسان کو ہدایت پانے کے لئے کئی قسم کی روشنی عطا کی اور خود اس کے دلی انصاف کو ہدایت کے قبول کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا۔اور داعی شر بدی کی طرف رغبت دینے والا ہے۔تا انسان اس کے رغبت دینے سے احتراز کر کے اس ثواب کو حاصل کرے جو بجز اس قسم کے امتحان کے حاصل نہیں کر سکتا تھا اور ثبوت اس بات کا کہ ایسے دو داعی یعنی داعی شر اور داعی خیر انسان کے لئے پائے جاتے ہیں بہت صاف اور روشن ہے۔کیونکہ خود انسان بدیہی طور پر اپنے نفس میں احساس کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ دو قسم کے جذبات سے متاثر ہوتا رہتا ہے کبھی اس کے لئے ایسی حالت صاف اور نورانی میسر آ جاتی ہے کہ نیک خیالات اور نیک ارادے اس کے دل میں اٹھتے ہیں اور کبھی اس کی حالت ایسی پُر ظلمت اور مکڈ رہوتی ہے کہ طبیعت اس کی بد خیالات کی طرف رجوع کرتی ہے اور بدی کی طرف اپنے دل میں رغبت پاتا ہے۔سو یہی دونوں داعی ہیں جن کو ملائک اور شیطان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اور حکمائے فلسفہ نے انہی دونوں داعی خیر اور داعی شر کو دوسرے طور پر بیان کیا ہے۔یعنی ان کے گمان میں خود انسان ہی کے وجود میں دو قسم کی قو تیں ہیں۔ایک قوت ملکی جو داعی خیر ہے اور دوسری قوت شیطانی جو داعی شر ہے۔قوت ملکی نیکی کی طرف رغبت دیتی ہے۔اور چپکے سے انسان کے دل میں خود بخود پڑ جاتا ہے کہ میں نیک کام کروں۔جس سے میرا خدا راضی ہو اور قوت شیطانی بدی کی طرف محرک ہوتی ہے۔غرض اسلامی عقائد اور دنیا کے کل فلسفہ کے اعتقاد میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ اہل اسلام دونوں محرکوں کو خارجی طور پر اور وجود قرار دیتے ہیں۔اور فلسفی لوگ انہیں دونوں وجودوں کو دو قسم کی قو تیں سمجھتے ہیں۔جو خودانسان ہی کے نفس میں موجود ہیں۔لیکن اس اصل بات میں کہ فی الحقیقت انسان کے لئے دو محرک پائے جاتے ہیں۔خواہ محرک خارجی طور پر کچھ وجود رکھتے ہوں قوتوں کے نام سے ان کو موسوم کیا جائے۔یہ ایک ایسا اجتماعی اعتقاد ہے جو تمام گروہ فلاسفہ اس پر اتفاق رکھتے ہیں۔اور آج تک کسی عقلمند نے اس اجتماعی اعتقاد سے انحراف اور انکار نہیں کیا۔وجہ یہ کہ یہ بدیہی صداقتوں میں سے ایک اعلیٰ درجہ کی بدیہی صداقت ہے جو اس شخص پر بکمال صفائی کھل سکتی ہے کہ جو اپنے نفس پر ایک منٹ کے لئے اپنی توجہ اور غور کرے اور دیکھے کہ کیونکر نفس اُس کا مختلف جذبات میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔اور کیوں کر ایک دم میں کبھی زاہدانہ خیالات اس کے دل میں بھر جاتے ہیں۔اور کبھی رندانہ وساوس اس کو پکڑ لیتے ہیں۔(اخبار عام لاہور، امئی ۱۸۸۵ء بحوالہ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام موسومه ” منظور الہی صفحہ ۱۸ ، صفحہ ۱۹ مطبوعه الفضل ۳ جون ۱۹۴۸ء) ا دو