مضامین بشیر (جلد 2) — Page 234
مضامین بشیر ۲۳۴ مسئلہ پیدائش شیطان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نیا حوالہ ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ درج کیا جاتا ہے۔جو شیخ عبدالقادر صاحب لائلپوری نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات سے تلاش کر کے نکالا ہے۔اصل حوالہ نہیں دیکھا مگر بہر حال یہ حوالہ نہایت لطیف مشتمل ہے۔اور بعض ایسی تفاصیل پر حاوی ہے جو آئینہ۔کمالات اسلام والے حوالے میں درج نہیں ہیں۔والحق ما قال اهل الحق۔خاکسار مرزا بشیر احمد رتن باغ لا ہور ۱۹۴۸-۶-۱ ۸ مئی ۱۸۸۵ء کو رام چون ممبر آریہ سماج اکبر آباد کے بعض سوالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر سے گزرے۔جن کے جواب، امئی ۱۸۸۵ء کے اخبار عام لاہور میں حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف سے شائع ہوئے۔پہلا سوال پیدائش شیطان کے بارے میں تھا۔یہ سوال اور اس کا لطیف جواب بغیر کسی تبصرہ کے درج ذیل کیا جاتا ہے۔نتائج دوست خود اخذ کر سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ خدا نے شیطان کو پیدا کر کے کیوں آپ ہی لوگوں کو گناہ اور گمراہی میں ڈالا ؟ کیا اس کا یہ ارادہ تھا کہ لوگ ہمیشہ بدی میں مبتلا رہ کر کبھی نجات نہ پاویں؟ جواب : ایسا سوال ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔جنہوں نے کبھی غور اور فکر سے دینی معاملات میں نظر نہیں کی۔یا جن کی نگاہیں خود ایسی پست ہیں کہ بجز بے جا نکتہ چینیوں کے اور کوئی حقیقت شناسی کی بات اور محققانہ صداقت ان کو نہیں سوجھتی اب واضح ہو کہ سائل کے اس سوال سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصول اسلام سے بالکل بے گانہ اور معارف ربانی سے سرا سرا جنبی ہے۔کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ شریعت اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا شیطان صرف لوگوں کے بہکانے اور ورغلانے کے لئے خدا نے پیدا کیا ہے۔اور اسی اپنے وسوسہ کو پختہ سمجھ کر تعلیم قرآنی پر اعتراض کرتا ہے۔حالانکہ تعلیم قرآنی کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے اور نہ یہ بات کسی آیت کسی کلام الہی سے نکلتی ہے بلکہ عقیدہ حقہ اہل اسلام جس کو حضرت خدا وند کریم جل شانہ نے خود اپنے کلام پاک میں بیان کیا ہے، یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے دونوں اسباب نیکی اور بدی کے مہیا کر کے اور ایک وجہ کا اس کو اختیار دے کر قدرتی طور پر دو قسم کے محرک اس کے لئے مقرر کئے ہیں۔ایک داعی خیر یعنی ملائکہ جو نیکی کی رغبت دل میں ڈالتا ہے دوسرا داعی شریعنی شیطان جو بدی