مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 213 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 213

۲۱۳ دیا ہے۔مگر میں اوپر بتا چکا ہوں یہ خیال درست نہیں۔مضامین بشیر اب رہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ کا سوال۔سو یہی درحقیقت اس ساری بحث میں اصل قابل غور چیز ہے مگر افسوس ہے کہ ابھی تک میں اس حوالہ سے وہ نتیجہ نکال نہیں سکا جو محمد حیات صاحب نے یا بعض دوسرے دوستوں نے نکالنا چاہا ہے میں نے جہاں تک اس حوالہ پر غور کیا ہے اس کا حقیقی خلاصہ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں صاحب اختیار ہے کہ چاہے تو نیکی کے رستہ کو اختیار کر لے اور چاہے تو بدی کے رستہ پر پڑ جائے اور در حقیقت انسان کے صاحب اختیار ہونے کو ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام لمہ خیر یالمہ شریا داعی الی الخیر اور داعی الی الشر کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مضمون میں ابلیس کا بھی ذکر کیا ہے اور اسے داعی الی الشر کا نام دیا ہے مگر ظاہر ہے کہ اس پہلو سے ابلیس کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ جس طرح نمرود اپنے محدود زمانہ میں داعی الی الشر تھا اور فرعون اپنے محدود زمانہ میں داعی الی الشر تھا اور ابو جہل اپنے محدود زمانہ میں داعی الی الشر تھا۔اسی طرح ابلیس اپنے وسیع زمانہ میں جو عملا گویا سارے زمانوں پر مشتمل ہے۔داعی الی الشر ہے۔پس جہاں تک میں سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ نظام روحانی کا ازلی حصہ انسان کا نیکی اور بدی میں صاحب اختیار ہونا ہے اور ابلیس کے وجود سے جو اوائل میں ہی یعنی ہمارے جد امجد حضرت آدم کے زمانہ میں ہی مغویانہ حیثیت اختیار کر گیا تھا۔انسان کے اس فطری اختیار کے اس پہلو کو جو بدی کی طرف جھکنے سے تعلق رکھتا ہے ایک مزید خارجی سہارا مل گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” ہمارے مخالف آریہ اور برہمو اور عیسائی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس تعلیم کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دانستہ انسان کے پیچھے شیطان کو لگا رکھا ہے۔گویا اس کو آپ ہی خلق اللہ کا گمراہ کرنا منظور ہے مگر یہ ہمارے شتاب باز مخالفوں کی غلطی ہے۔ان کو معلوم کرنا چاہئے که قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کے لئے جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کے لئے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض سے لمہ ملک اور لمہ ابلیس برابر طور پر انسان کو دیئے گئے ہیں۔یعنی ایک داعی خیر اور ایک داعی شر۔تا انسان اس ابتلاء میں پڑ کر مستحق ثواب یا عتاب کا ٹھہر سکے۔کیونکہ اگر اس کے لئے ایک ہی طور کے اسباب پیدا کئے جاتے مثلاً اگر اس کے بیرونی اور اندرونی اسباب و جذبات فقط