مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 204 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 204

مضامین بشیر ۲۰۴ جماعت یا اکثر حصہ جماعت کا تعامل اس سے مختلف رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دنوں میں تو میں حتمی طور پر عرض کر سکتا ہوں کہ تعامل بھی وہی تھا۔جو میں اوپر عرض کر آیا ہوں اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے حضرت خلیفہ اسی اول کے اوائل میں بھی یہی تھا۔بعد میں مجھے حتمی طور پر اس لئے یاد نہیں کہ نہ تو اس کثرت و تکرار سے نمازیں جمع ہوئیں اور جب کبھی نمازوں کے جمع کرنے کا وقت آیا خاص کر جلسہ کے ایام میں تو ان دنوں میں چونکہ یہ خاکسا را کثر مہمانداری میں مصروف رہتا تھا ، اس لئے مجھے صحیح طور پر یاد نہیں کہ تعامل کیا تھا۔تاہم پچھلے چند سالوں میں مجھے معلوم ہوا کہ جماعت میں اس کے تعامل میں اختلاف ہے اور غالبا مسئلہ میں تو میں نے ایک دن حضرت مولوی شیر علی صاحب سے عرض کیا کہ آپ کو معلوم ہے اور اچھی طرح سے معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ایام میں یہ مسئلہ اور اس کا تعامل بالکل واضح تھا۔آپ کیوں یہ امر واضح طور اپنے ان نئے علماء کو نہیں بتلا دیتے ؟ تو انہوں نے ہنس کر کہا کہ تم کیوں نہیں کہہ دیتے۔میں نے عذر کیا تو فرمانے لگے میرا بھی قریباً ایسا ہی عذر ہے۔اصل میں ان کی طبیعت میں انتہا درجہ کی فروتنی تھی وہ خواہ نخواہ اپنے آپ کو آگے نہیں کرنا چاہتے تھے۔میں بھی ان سطور کے لکھنے سے پر ہیز کرتا مگر چونکہ آپ کی طرف سے اس سوال کو اٹھایا گیا ہے۔اس لئے مجبوراً یہ چند سطور عرض کر رہا ہوں اور گومگر می مولوی شمس صاحب نے سوال کا جواب تو صحیح دیا ہے مگر ایک واقعہ غلط لکھا ہے جس سے غلط فہمی کا احتمال ہوتا ہے اس لئے یہ عاجز آپ کے نوٹس میں یہ واقعہ لا رہا ہے کہ اگر مولوی شمس صاحب کی تحریر سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ جماعت کے تعامل سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے یا حضرت خلیفہ اسیح اول کا زمانہ تو یہ بات غلط ہے۔باقی میرا خیال ہے کہ الحکم کے فائل سے ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا واضح فتویٰ چھپا ہوا بھی مل جائے کیونکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اکثر لوگ دریافت کرتے تھے اور حضور خود بھی اس کا جواب دے دیا کرتے تھے۔والسلام خاکسار محمد دین (ریٹائر ڈ ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان) ( مطبوعه الفضل ۲ رمئی ۱۹۴۸ء)