مضامین بشیر (جلد 2) — Page 184
مضامین بشیر ۱۸۴ مشینری کا خالق نہیں ہو سکتا۔یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے اتنی دور ہیں جتنے کہ آگ اور پانی ایک دوسرے سے دور ہیں۔(۲) دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ یعنی اور میں نے جن وانس کو صرف اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے عبد بن کر رہیں، گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام جن وانس کی پیدائش کی غرض و غایت واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں عبودیت اور صرف عبودیت بیان کی ہے اور دوسری طرف قرآن شریف ہی ابلیس کے متعلق یہ فرماتا ہے۔کہ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبه یعنی ابلیس جنوں میں سے خدا کی ایک مخلوق ہستی ہے جس نے خود خدا کی نافرمانی کر کے فسق کا طریق اختیار کیا۔اب دیکھو کہ یہ کتنی واضح بات ہے کہ ایک طرف تو قرآن شریف یہ کہتا ہے کہ خُدا نے ہر جن وانس کو محض عبادت کی غرض سے پیدا کیا ہے اور دوسری طرف قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ ابلیس بھی خدا کے پیدا کئے ہوئے جنوں (یعنی مخفی مخلوق ) میں سے ایک جن ہے۔جس نے خود فسق کا طریق اختیار کر کے خدا کے حکم سے روگردانی کی۔تو ان دونوں آیتوں کے ہوتے ہوئے اس بات میں کیا شبہ رہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابلیس کو مغویا نہ غرض و غایت کے ماتحت پیدا نہیں پیدا کیا بلکہ اس کا مغوی بننا خود اس کے اپنے فسق کا نتیجہ ہے اور دراصل غور سے دیکھا جائے تو یہ دلیل دو دلیلوں کا مجموعہ ہے اول یہ کہ جب ابلیس جنوں میں سے ایک جن ہے اور خدا فرماتا ہے کہ میں نے جوں کو بھی عبادت یعنی فرمانبرداری کے لئے پیدا کیا ہے تو پھر لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ ابلیس بھی دراصل فرما نبرداری کے لئے پیدا کیا گیا تھا نہ کہ مغوی بننے کے لئے۔دوم یہ کہ ابلیس کے متعلق خدا یہ الفاظ فرماتا ہے کہ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ " یعنی اس نے بعد میں خود فسق کا رستہ اختیار کر کے خدا کی حکم عدولی کی۔اُوپر کی دونوں آیتوں سے یہ دونوں دلیلیں ایسے واضح طور پر مستنبط ہوتی ہیں کہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔واللہ اعلم۔یہ سوال کہ جن سے کیا مراد ہے ایک جدا گانہ بحث ہے جس کے متعلق اس جگہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔(۳) تیسری دلیل مجھے اپنے نظریہ کی تائید میں یہ نظر آتی ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم والے واقعہ کے تعلق میں ابلیس کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ یعنی اے ابلیس تجھے کس چیز نے اس بات سے روکا کہ تو آدم کے سامنے سجدہ کرے ( یعنی آدم کی تائید میں اپنی طاقتوں کو لگائے ) جبکہ میں نے خود تجھے اس کا حکم دیا تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ خدا نے خود ابلیس کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے