مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 183 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 183

۱۸۳ مضامین بشیر کیا جائے گا۔چنانچہ میرا یہ مختصر نوٹ اسی غرض سے ہے کہ تا میں اس سوال کو سلسلہ کے علماء کے سامنے لے آؤں اور پھر ان کی تحقیق اور اظہار رائے کے بعد اسے حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا جائے۔جو خیال میں نے اوپر ظاہر کیا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابلیس کا مغویا نہ وجود بذات خود مقصود نہیں ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اس غرض و غایت کے ماتحت پیدا نہیں کیا کہ وہ دُنیا میں لوگوں کی گمراہی کا سامان مہیا کرے بلکہ اس نے خود گمراہی اور بغاوت کے رستہ پر پڑ کر یہ وطیرہ اختیار کر لیا ہے۔گویا میری موجودہ تحقیق میں ابلیس کا مغوی ہونا نظام روحانی اور تقدیر خیر وشر کا ایک حصہ نہیں ہے۔بلکہ ایک بعد کا حادثہ ہے۔جسے انگریزی محاورہ میں accident کہتے ہیں اور مختصر طور پر میرے اس خیال کے بعض دلائل یہ ہیں :- (۱) اگر ابلیس کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ اس کے پیدا کرنے کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے تو پھر میری ناقص رائے میں اس سے اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ اور ارفع صفات یعنی اسماء حسنیٰ پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ گویا اس نے خود لوگوں کی گمراہی کا سامان پیدا کیا۔انسان کو اپنی ذات میں صاحب اختیار بنانا کہ وہ چاہے تو نیکی کا رستہ اختیار کرے اور چاہے تو بدی کا رستہ اختیار کر لے، ایک بالکل اور بات ہے۔لیکن ایک خارجی ہستی کو خالصہ مغویا نہ حیثیت میں اس غرض وغایت کے ساتھ پیدا کرنا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے بالکل اور چیز ہے۔اور کم از کم میری طبیعت اس بات پر تسلی نہیں پاتی کہ خدا جیسی رحیم اور کریم اور شفیق ہستی کی طرف اس خیال کو منسوب کیا جائے کہ اس نے ایک وجود محض اس غرض سے پیدا کیا کہ وہ اس کی مخلوق کو گمراہ کرتا پھرے۔پس قطع نظر اور دلیلوں کے خدا کی اعلیٰ اور ارفع صفات کی شان ہی اس خیال کو رد کرتی ہے کہ ابلیس کے مغویا نہ وجود کو اپنی ذات میں مقصود سمجھا جائے۔بے شک انسانوں میں بھی بڑے بڑے مغوی لوگ گزرے ہیں۔جس طرح کہ مثلا حضرت ابرا ہیم کے زمانہ میں فرعون وہا مان تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابو جہل وغیرہ تھے۔مگر یہ سب لوگ اپنی مغویا نہ حیثیت میں ایک حادثہ یعنی (accident) تھے نہ کہ اسی حیثیت میں بذات خود مقصود۔تو کیوں نہ ابلیس کو بھی اسی رنگ کا ایک مغویا نہ وجود خیال کیا جائے البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ یہ لوگ انسان تھے۔اور اپنی محدود عمر میں پا کر فنا ہو گئے۔مگر ابلیس ایک مخفی قسم کا غیر انسانی وجو د تھا۔جس نے اپنی نوع کے مطابق لمبی مہلت پائی۔بہر حال میرے ذوق کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات کا مطالعہ ہی اس خیال کو رد کرتا ہے کہ گویا خدا نے ابلیس کو اس غرض و غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرتا پھرے۔ہادی اعظم بلکہ ہدایت مجسم کا وجود گمراہی کی