مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 182

مضامین بشیر ۱۸۲ مگر اس جگہ جس مسئلہ کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور اپنے سلسلہ کے علماء کو اس بارہ میں تحقیق کی دعوت دیتا ہوں وہ مخصوص طور پر ابلیس سے تعلق رکھتا ہے۔اور وہ یہ کہ کیا خدا تعالی نے ابلیس کو اسی غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے اور ان کے لئے دنیا میں ابتلاؤں کا سامان مہیار کھے؟ یا یہ کہ وہ اس غرض کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔بلکہ بعد میں خود گمراہی اختیار کر کے ایک مغوی وجود بن گیا ہے۔عام عقیدہ یہ ہے جو بظاہر بعض بڑے بڑے بزرگوں اور محققوں کی طرف منسوب ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایک مختار ہستی کے طور پر پیدا کیا اور اس کو یہ اختیار دیا کہ چاہے تو ہدایت اور نیکی کا رستہ اختیار کرے اور چاہے تو بدی اور گمراہی کے رستہ پر پڑ جائے تو انسان کے اس فطری اختیار کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ نے یہ نظام بھی دنیا میں قائم کیا کہ ایک طرف فرشتوں کا وجود پیدا کر دیا جو لوگوں کو ہدایت کی طرف کھینچنے والے ہیں اور ان کے دلوں میں نیکی کی تحریک کرتے رہتے ہیں۔اور دوسری طرف اس نے ابلیس اور اس کے جنو د کو مغویانہ طاقتوں کے ساتھ پیدا کر کے لوگوں کے لئے ابتلاؤں کا سامان بھی مہیا کر دیا تا کہ ایک طرف نیکی کی کشش موجودر ہے اور دوسری طرف بدی کی کشش بھی سامنے رہے۔اور ان دونوں متضاد قسم کی کششوں کے اندر انسان خود اپنے اختیار سے نیکی اور بدی کا فیصلہ کر کے اپنا رستہ بنائے۔تا کہ اگر وہ نیکی کا رستہ اختیار کرے تو خدا کے انعاموں کا مستحق ہو۔اور اگر بدی کے رستہ پر پڑ جائے تو سزا کا مستو جب ٹھہرے۔یہ وہ نظریہ ہے جو عام طور پر ابلیس کے متعلق پایا جاتا ہے اور اسلام کے بعض بڑے بڑے بزرگ اس نظریہ کے قائل رہے ہیں اور اسے تقدیر خیر وشر کے نظام کا ایک ضروری حصہ سمجھتے رہے ہیں۔اور بظاہر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ ایک معقول نظریہ ہے ، جس کے بغیر انسان کا مختار ہونا باطل ہو جاتا ہے۔مگر مجھے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ ایک عرصہ سے میرے دل میں اس بظا ہر معروف نظریہ کے متعلق شبہات پیدا ہور ہے تھے۔اور خصوصا جن ایام میں ترجمہ و تفسیر قرآن کریم انگریزی کے صیغہ میں کام کرتا تھا تو مجھے بعض قرآنی آیات کے مطالعہ نے بڑے زور کے ساتھ اس خیال کی طرف مائل کیا که غالباً یہ نظریہ درست نہیں ہے۔لیکن چونکہ اس قسم کے اہم مسائل میں معروف عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ رکھنا یا اس کا اظہار کرنا سلامت روی کے خلاف ہے اور فتنہ کا موجب ہو سکتا ہے۔اس لئے میں نے اپنے اس خیال کو کبھی ظاہر نہیں کیا۔حتی کی تفسیر نویسی کے وقت بھی میں نے اس مضمون پر ایک لمبا نوٹ لکھ کر اسے بعد میں پھاڑ دیا اور اس بات کا انتظار کیا کہ اس بارہ میں مزید غور کر کے اور علماء سلسلہ سے مشورہ کر کے پھر یہ مسئلہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش