مضامین بشیر (جلد 2) — Page 179
129 مضامین بشیر میں نے کالج کے بعض بچوں اور پروفیسروں کو بتایا کہ انہوں نے پرانے زمانہ کی یاد کو تازہ کیا ہے اور جس خوشی کے ساتھ انہوں نے حالات کی اس تبدیلی کو قبول کیا ہے وہ ان کے لئے اور ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ موجودہ حالت سے انہیں یہ سبق سیکھنا چاہئے کہ حقیقی علم ظاہری ٹیپ ٹاپ اور ظاہری سازوسامان سے بے نیاز ہے اور جھونپڑوں کے اندر فرشوں پر بیٹھ کر بھی انسان اسی طرح علوم کے خزانوں کا مالک بن سکتا ہے۔جس طرح شاندار ساز وسامان استعمال کرنے والے علم حاصل کرتے ہیں۔بلکہ یہ صورت روح کی درستی کے لحاظ سے زیادہ مفید ہے اور انسانی قلب کو علم کے مرکزی نقطہ پر زیادہ پختگی کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے۔کیونکہ جب ماحول کی زیب وزینت نہیں ہو گی تو لازماً انسان کی آنکھیں اور انسان کے دل و دماغ علم کی طرف زیادہ متوجہ رہیں گے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ضروری ساز و سامان جو موجودہ علوم کے حصول کے لئے ضروری ہے اسے حاصل نہ کیا جائے۔جو چیز حقیقتا ضروری ہے وہ علم کا حصہ ہے۔اور ہم اس کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتے۔اور موجودہ صورت میں بھی ہم اس کے لئے کوشاں ہیں۔مگر ظاہری ٹیپ ٹاپ یا زیب و زینت کا سامان یا آرام و آسائش کے اسباب بہر حال زائد چیزیں ہیں جو علم کے رستہ میں ممد ہونے کی بجائے روک بنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔ہمارے آقا فداہ نفسی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔الْفَقْرُ فَخْرِی _ یعنی فقر میرے لئے فخر کا موجب ہے۔اس سے بھی یہی مراد ہے کہ مجھے آسائش کے سامانوں کی ضرورت نہیں اور میری روح ان چیزوں کے تصور سے بے نیاز ہے۔جو محض جسم کے آرام کا پہلو رکھتی ہیں۔اور روح انسانی کی ترقی میں محمد نہیں ہوسکتیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُطلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ۔یعنی علم کی تلاش کرو۔خواہ اس کے لئے تمہیں چین کے ملک تک جانا پڑے۔چونکہ اس زمانہ میں چین کا ملک ایک دور افتادہ ملک تھا۔اور اس میں رستہ کی صعوبتوں کے علاوہ دنیوی آسائشوں کے بھی کوئی سامان موجود نہیں تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکیمانہ الفاظ فرما کر یہ اشارہ کیا کہ حقیقی علم دنیوی آسائشوں اور ساز و سامان کے ماحول سے آزاد ہے۔بہر حال میں بہت خوش ہوں کہ ہمارے بچوں نے یا کم از کم ان میں سے اکثر نے ماحول کی موجودہ تبدیلی میں اچھا نمونہ دکھایا ہے اور اگر وہ خلوص نیت کے ساتھ اس روح پر قائم رہیں گے تو مجھے یقین ہے کہ وہ علم کے حصول کے علاوہ سادہ زندگی کی برکات سے بھی پوری طرح فائدہ اٹھانے والے ثابت ہوں گے۔مطبوعہ الفضل ۱۱ مارچ ۱۹۴۸ء )