مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 178 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 178

مضامین بشیر ۱۷۸ ہمارا تعلیم الاسلام کالج آج مجھے اتفاقاً اپنے تعلیم الاسلام کالج آف قادیان حال لاہور کو چند منٹ کے لئے دیکھنے کا موقع ملا۔ہمارا ڈگری کالج جو موجودہ فسادات سے قبل قادیان کی ایک وسیع اور عالیشان عمارت میں اپنے بھاری ساز و سامان کے ساتھ قائم تھا۔وہ اب لاہور شہر سے کچھ فاصلے پر نہر کے کنارے ایک نہایت ہی چھوٹی اور حقیر سی عمارت میں چل رہا ہے۔اس عمارت کا نچلا حصہ قریباً قریباً ایک اصطبل کا سا رنگ رکھتا ہے۔اور اوپر کی منزل چند چھوٹے چھوٹے کمروں پر جو نہایت سادہ طور پر بنے ہوئے ہیں مشتمل ہے۔عمارت کی قلت اور کمروں کی کمی کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی عمارت سے کالج اور بورڈنگ کا کام لیا جا رہا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کے استعمال میں ہے۔اور باقی کمروں میں بورڈ ررہائش رکھتے ہیں ان میں سے بعض چار پائیاں نہ ہونے کی وجہ سے فرش پر سوتے ہیں اور بڑی تنگی کے ساتھ گزارہ کر رہے ہیں۔لیکن بائیں ہمہ میں نے سب بورڈروں کو ہشاش بشاش پا یا۔جو اپنے موجودہ طریق زندگی پر ہر طرح تسلی یافتہ اور قانع تھے اور کالج میں پڑھتے ہوئے لاہور جیسے شہر میں جھونپڑوں کی زندگی میں خوش نظر آتے تھے۔یہ اس اچھی روح کا ورثہ ہے جو خدا کے فضل سے احمدیت نے اپنے جوانوں میں پیدا کی ہے اور میں اس روح پر کالج کے طلباء اور کالج کے سٹاف کو قابل مبارک باد سمجھتا ہوں۔مگر جس چیز نے میرے دل پر سب سے زیادہ اثر پیدا کیا وہ کالج کی کلاسوں کی حالت تھی۔جیسا را وہ کہ میں اوپر بتا چکا ہوں موجودہ عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کی ضروریات کے لئے فارغ کیا جا سکا ہے۔اس لئے باقی کلاسیں برآمدوں میں یا کھلے میدان میں درختوں کے نیچے بیٹھتی ہیں۔لیکن خواہ وہ کمرہ میں بیٹھتی ہیں یا کہ برآمدہ میں اور خواہ کھلے میدان میں ، ان سب کا یہ حال ہے کہ چونکہ کوئی ڈیسک اور کوئی میز کرسی نہیں اس لئے پڑھانے والے اور پڑھنے والے ہر دو چٹائیاں بچھا کر زمین پر بیٹھتے ہیں۔مجھے اس نظارہ کو دیکھ کر وہ زمانہ یاد آیا کہ جب دینی اور دنیوی ہر دو قسم کے علوم کا منبع مسجد میں ہوا کرتی تھیں۔جہاں اسلام کے علماء اور حکماء فرش پر بیٹھ کر اپنے اردگر دیگھیرا ڈالے ہوئے طالب علموں کو درس دیا کرتے تھے۔اور اس قسم کے درسوں کے نتیجہ میں بعض ایسے شاندار عالم پیدا ہوئے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج کی دنیا بھی ان کے علوم سے روشنی حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔