مضامین بشیر (جلد 2) — Page 177
122 مضامین بشیر میں کوئی کام نہ کیا جائے اگر ان چار باتوں کو محوظ رکھو تو ہر لباس اسلامی لباس ہے اور اگر ان باتوں کو نظر انداز کر دو تو صرف کوٹ پتلون ہی کا سوال نہیں کوئی لباس بھی اسلامی لباس نہیں۔حضرت صاحب کے خطبوں پر بعض نوجون شاید تلملاتے ہوں گے اور یہ سمجھتے ہوں گے کہ اسلام کو لباس کے معاملہ میں کیا تعلق ہے۔میں کہتا ہوں اسلام کو واقعی لباس کے معاملہ سے تو کوئی تعلق نہیں مگر اسے مسلمانوں کی روح کی صفائی اور ضمیر کی آزادی اور کیریکٹر کی بلندی اور زندگی کی سادگی کے ساتھ ضرور تعلق ہے اور بہت بھاری تعلق ہے۔لباس بے شک ایک فرع ہے مگر یہ چیزیں جڑ کا حکم رکھتی ہیں اور جو جڑ گندی ہوگی ، وہ ہے۔فرع مگر یہ جو کام اور جوجو کبھی بھی اچھی شاخ پیدا نہیں کرے گی۔مگر افسوس ہے کہ ہمارے خاندان کے بعض نوجوانوں میں بھی ماحول کے مادی اثر کے ماتحت مغرب کی دجالی تہذیب کا کسی قدر رنگ پیدا ہوتا نظر آتا ہے اور جب حضرت صاحب نے اپنے خطبہ میں لباس کا ذکر کیا تو اس میں بھی اسی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا۔اس قسم کی خرابیاں ابتداء میں بہت معمولی بلکہ کوتاہ بینوں کے نزدیک نا قابل التفات نظر آتی ہیں۔مگر بعد میں آہستہ آہستہ خاندانوں اور قوموں کو تباہ کر کے چھوڑتی ہیں۔بہر حال اس جد امجد کی نسل جسے قاتل دجال ہونے کا دعوی تھا اور جس کی اپنی نسل کے واسطے یہ دعا تھی کہ :- نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال اس کے گھر کے بعض نو نہالوں کے جسم پر دجالی تہذیب کا بپتسما خواہ وہ مرعوبیت کے رنگ میں نہ بھی ہو کوئی اچھی نشانی نہیں ہے۔وقت بہت نازک ہے اور نازک تر آ رہا ہے میں اپنے بیٹوں۔بھتیجوں۔بھانجوں۔دامادوں۔ماموں زاد بھائیوں اور جملہ ابناء فارس سے کہتا ہوں کہ ہماری زندگی کا بہت سا وقت گزر گیا اور معلوم نہیں کتنا وقت باقی ہے ہم نے اس عرصہ میں ٹھوکریں بھی کھا ئیں۔لغزشیں بھی دیکھیں اور نہ معلوم کن کن گناہوں کے داغوں سے ملوث ہوئے۔مگر خدا جانتا ہے کہ نمائش کے طور پر نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک نام کی خاطر کم از کم اپنی زندگیوں کے ظاہر کو شریعت اسلامی کے مطابق رکھنے کی کوشش کی۔اب آپ لوگوں کا دور آ رہا ہے۔اس کے لئے میں آپ کو اس سے بہتر الفاظ میں کیا نصیحت کر سکتا ہوں کہ : - ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو ( مطبوعه الفضل ۳ / فروری ۱۹۴۸ء)