مضامین بشیر (جلد 2) — Page 173
۱۷۳ مضامین بشیر دیئے جائیں تو وہ تمہارے لئے ناواجب تنگی پیدا کر کے تکلیف کا موجب بن جائیں۔پس شریعت نے کمال دانشمندی کے ساتھ ایک حصہ میں خود خاموشی اختیار کی ہے۔اور اصول بتا دینے کے بعد تفاصیل کا فیصلہ مختلف قوموں اور مختلف ملکوں اور مختلف زمانوں پر چھوڑ دیا ہے۔چنانچہ حدیث میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ آتے ہیں۔کہ اختلاف امتی رحمۃ۔اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اسلامی شریعت کا تمام زمانوں اور تمام قوموں اور تمام ملکوں کے لئے نازل ہونا خدا کی عالمگیر رحمت کا ثبوت ہے۔اور اس وسعت کے نتیجہ میں بعض باتوں میں جو تفاصیل سے تعلق رکھتی ہیں اختلاف کا پایا جانا ضروری ہے۔پس یہ اختلاف بھی خدا کی رحمت کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔لہذا اسے محدود کر کے اور تفصیلی امور میں یک رنگی کا رستہ تلاش کر کے خدا کی رحمت کی وسعت کو باطل مت کرو۔پس اوپر کے سوال کا اصل جواب تو یہ ہے کہ اسلام لباس کے معاملہ میں ایسا دخل نہیں دیتا کہ سب قوموں اور سب ملکوں کو مجبور کر کے ایک ہی لباس میں ملبوس دیکھنا چاہے۔بلکہ اس نے لباس کے معاملہ کو لوگوں کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔لہذا کوئی لباس بھی اسلامی لباس نہیں۔اس معنی میں کہ اسلام نے کسی مخصوس لباس کا حکم نہیں دیا اور ہر لباس اسلامی لباس ہے۔اس معنی میں کہ اگر کسی ملک کا شریف طبقہ اسلام پر قائم رہتے ہوئے اپنے طبعی حالات کے نتیجہ میں اپنے لئے کوئی لباس اختیار کرتا ہے تو وہی لباس اس کے لئے اسلامی لباس ہے لیکن جہاں اسلام نے اس قسم کے تفصیلی امور میں ہمیں آزاد رکھا ہے۔وہاں اس نے ان تفصیلات کے دائرے میں بھی ہمیں بعض اصولی ہدایات دے کر ہمارے لئے سلامت روی کا رستہ کھول دیا ہے اور ہم تفاصیل میں اختلاف رکھتے ہوئے بھی اسلامی روح کے معاملہ میں ایک جان بن کر رہ سکتے ہیں۔یہ اصولی ہدایات جہاں تک میں نے غور کیا ہے ذیل کی چار قسموں میں محدود ہیں۔( اول ) سب سے پہلی بات اور حقیقی طور پر بنیادی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مشہور اور متواتر حدیث میں مرکوز ہے کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہوتا ہے اس نہایت درجہ گہری اور ٹھوس صداقت کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ہاتھ میں نیک و بد عمل کو پہچاننے اور اچھے اور برے طریق میں امتیاز کرنے کی ایک بہترین کسوٹی دے دی ہے۔پس جو شخص کسی لباس کو اختیار کرتا ہے۔اس کا سب سے پہلا فرض یہ ہے اِنَّمَا الا عُمَالُ بِالنِّيَّاتِ کی کسوٹی کے ذریعہ اپنے اس عمل کا امتحان کرے۔اگر اس کے عمل میں کسی قسم کے تکلف یا تصنع یا نقالی یا نمائش یا فضول خرچی یا اسلامی اصول زندگی سے انحراف کی خواہش نہیں ہے۔تو چشم ما روشن دل ما شاد۔وہ جس لباس کو بھی نیک نیتی سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہوئے اور