مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 170

مضامین بشیر ۱۷۰ کا یہ صاف اور واضح فتوی موجود ہے کہ اگر تم ایسے وقت میں جماعت میں شامل ہو کہ مثلاً امام دو رکعت نماز پڑھ کر تیسری رکعت میں داخل ہو چکا ہے۔تو تم نماز میں شامل ہو جاؤ۔اور پھر امام کی نماز کے بعد وہ حصہ نما ز کا پورا کر لو۔جو تم سے رہ گیا ہے۔چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ کہ صَلَّوْا مَا فَاتَكُم۔۔۔۔۔یعنی بعد میں اس حصہ کو پورا کر لو۔جو تم سے رہ گیا ہے۔اس حدیث کے الفاظ مَا فَاتَكُم سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کی اتباع کو مقدم رکھ کر نماز کی ترتیب کو اس کے تابع کیا ہے۔گویا جو شخص امام کے ساتھ تیسری رکعت میں شامل ہوگا۔اس کی نماز یوں ہوگی کہ وہ پہلے تیسری اور چوتھی رکعت پڑھے گا اور پھر اس کے بعد پہلی اور دوسری رکعت ادا کرے گا۔اب سوال یہ ہے کہ جب امام کی اتباع کی وجہ سے ایک نماز کے اندر کی ترتیب بدل سکتی ہے تو جمع کی صورت میں دو نمازوں کی باہمی ترتیب کیوں نہیں بدل سکتی۔(۴) چوتھی دلیل میرے خیال کی تائید میں یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی وقت کی نماز پڑھنی بھول جائے۔مثلاً ایک شخص ہے جو ظہر کی نماز پڑھنی بھول گیا ہے اور عصر کی نماز پڑھ چکنے کے بعد اسے ظہر کی بھولی ہوئی نما ز یاد آتی ہے تو اس کے متعلق متفقہ فتویٰ یہ ہے کہ وہ ترتیب کا خیال چھوڑ کر اپنی بھولی ہوئی ظہر کی نماز عصر کے بعد پڑھ لے، ورنہ اگر نمازوں کی ترتیب بہر حال مقدم ہوتی تو فتویٰ یہ ہونا چاہئے تھا کہ اس صورت میں ایسا شخص بھولی ہوئی ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ عصر کی نماز کی تکرار کرے تا کہ ترتیب قائم رہے مگر ایسا حکم نہیں دیا گیا۔ان سب دلائل سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والا فتویٰ ہی زیادہ صحیح اور اصول اسلام کے زیادہ مطابق ہے۔مگر چونکہ بہر حال یہ ایک فقہی مسئلہ ہے جس میں جائز اختلاف کی گنجائش تسلیم کی گئی ہے۔اس لئے اگر کوئی صاحب اس بارے میں کچھ فرمانا چاہتے ہیں تو مجھے براہ راست خط لکھ کر یا الفضل کے ذریعہ مطلع فرمائیں وَ جَزَاهُ اللهُ خَيْرًا۔اس کے بعد انشاء اللہ یہ حوالے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کر دئے جائیں گے۔( مطوعه الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۴۸ء)