مضامین بشیر (جلد 2) — Page 168
مضامین بشیر ۱۶۸ جمع صلوتین کے متعلق ایک ضروری مسئلہ کیا امام کی اتباع زیادہ ضروری ہے یا کہ نمازوں کی ترتیب سفر یا بارش وغیرہ کے موقع پر جبکہ عموماً نمازوں کے جمع کرنے کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے۔کئی لوگوں کو ایک خاص قسم کی مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔جس کے متعلق مفتیوں کے فتویٰ میں اختلاف ہے۔یہ صورت اس وقت پیش آتی ہے کہ جب مثلاً امام ظہر اور عصر کی نماز جمع کراتے ہوئے عصر کی نماز پڑھا رہا ہوتا ہے۔یا مغرب اور عشاء کی نما ز جمع کراتے ہوئے عشاء کی نماز پڑھا رہا ہوتا ہے اور ایک ایسا شخص آ کر نماز میں شامل ہوتا ہے۔جس نے ابھی تک ظہر یا مغرب کی نما ز نہیں پڑھی ہوتی اس وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا شخص اپنی چھوڑی ہوئی نماز پہلے پڑھے۔اور پھر امام کے ساتھ نماز با جماعت میں شامل ہو۔یا کہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور اپنی چھوڑی ہوئی نماز بعد میں پڑھ لے۔قدیم علماء میں تو اس مسئلہ کے متعلق اختلاف ہے ہی مگر جہاں تک سماعی فتوی کا تعلق ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے فتوی میں بھی اختلاف سنا جاتا ہے۔زبانی روایت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ یہ تھا کہ ایسی صورت میں شامل ہونے والے شخص کو چاہئے کہ ترتیب کے خیال کو چھوڑ کر امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور جو نما ز امام پڑھا رہا ہے وہ پہلے پڑھ لے اور پھر بعد میں اپنی چھوڑی ہوئی نما ز علیحدہ ادا کرے۔اس کے مقابل پر ایک دوسری زبانی روایت حضرت خلیفہ اصیح اول رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ بتاتی ہے کہ چونکہ نمازوں کی مقررہ ترتیب ضروری ہے۔اس لئے ایسی صورت میں اس شخص کو چاہئے کہ پہلے علیحدہ طور پر اپنی چھوٹی ہوئی نماز پڑھے اور اس کے بعد امام کے ساتھ شامل ہو۔اس تعلق میں میرا سب سے پہلا سوال تو احباب سے یہ ہے کہ اگر کسی دوست کو اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت خلیفہ اول کا کوئی یقینی اور قطعی فتوی معلوم ہو تو اس سے اطلاع دیں۔تا کہ صحیح صورت کا علم ہو سکے کہ آیا جو تو کی زبانی روایت سے ظاہر ہوتا ہے وہی درست ہے یا کہ اصل صورت کچھ اور ہے۔ہر چند کہ اس قسم کے فقہی مسائل کا اختلاف زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ یہ مسائل اسلامی تعلیم کے اس حصہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا