مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 163

۱۶۳ مضامین بشیر ارفع شان قائم کی ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمارے آقا وسردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفسی علم کے میدان میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو یہ دعا سکھاتا ہے کہ قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا یعنی اے خدا میرے علم میں ترقی دے۔یعنی جوں جوں میرے کام کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔اسی نسبت سے مجھے علم میں وسعت عطا کرتا کہ میں اپنے کام کو بہترین صورت میں اور اعلیٰ ترین کامیابی کے ساتھ سرانجام دے سکوں۔پس کامیابی کے لئے سب سے ضروری چیز علم اور فن کی واقفیت ہے۔یہ واقفیت عام حالات میں یا تو دوسروں کو کام کرتا دیکھ کر پیدا کی جاسکتی ہے۔یا دوسروں سے سن کر حاصل کی جاسکتی ہے اور یا متعلقہ کتب کے مطالعہ سے میسر آتی ہے۔اس لئے کوئی شخص خواہ وہ خواندہ ہو یا نا خواندہ اس بنیادی چیز سے محروم نہیں رہنا چاہئے۔محنت دوسری چیز جو کامیابی کے لئے ضروری ہے وہ محنت ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس کی قدرو قیمت کو نہیں پہچانتے اور اپنے اوقات کو نہایت بے دردی کے ساتھ ضائع کرتے ہیں۔حالانکہ وقت ایک نہایت قیمتی چیز ہے اور چونکہ انسان کی زندگی بہت محدود ہے۔اس لئے جوشخص اپنی زندگی کے لحات کو فضول طور پر ضائع کرتا ہے۔وہ اپنے نفس پر ایسا ظلم کرتا ہے۔جس کا بعد میں کوئی ازالہ ممکن نہیں۔انسانی اوقات کا ایک کافی حصہ تو خود قانون قدرت نے انسان سے چھین رکھا ہے۔مثلا کھانے پینے کے اوقات۔رفع حاجت کے اوقات۔سونے کے اوقات ورزش یا تفریح کے اوقات۔اور کبھی کبھار بیماری کے ایام وغیرہ کام کے دائرہ سے عملاً خارج ہوتے ہیں۔پھر اگر باقی ماندہ وقت میں سے بھی انسان کچھ حصہ ضائع کر دے تو اس سے بڑھ کر بد قسمت کون ہو گا۔علاوہ ازیں جو شخص وقت کی قدر کو نہیں پہچانتا اور اپنے اوقات کو ضائع کرتا ہے وہ کبھی بھی اپنے کام میں توجہ اور انہماک پیدا نہیں کر سکتا اور توجہ اور انہماک کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔پس کامیابی کا دوسرا گر محنت ہے۔محنت ایک ایسی نعمت ہے کہ بسا اوقات اس سے عقل اور ذہن کی کمی بھی پوری کی جاسکتی ہے۔جب ہم بچے تھے تو سکول کی کتابوں میں خرگوش اور کچھوے کی دوڑ کی کہانی پڑھا کرتے تھے۔جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح ایک محنتی کچھوے نے ایک تیز رفتار مگر کاہل اور ست خرگوش سے دوڑ جیت لی۔دنیا کے بڑے لوگوں میں سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی گذری ہے جنہوں نے باوجود ذہن کی کمی کے اپنی محنت اور جانفشانی سے کمال پیدا کر لیا مگر اس کے مقابل پر ایسے بہت کم لوگ گزرے ہیں۔جنہوں نے محض ذہنی کمال کے نتیجہ میں محنت کے بغیر کمال پیدا کیا ہو وَ الشَّاذُ كَالْمَعْدُوم۔میرے علم کے مطابق وقت کی