مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 156 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 156

مضامین بشیر ۱۵۶ اپنے مقدس مرکز سے جبر ا نکالا جا رہا ہے۔مگر افسوس ہے کہ آج تک حکومت مشرقی پنجاب اور حکومت انڈین یونین نے ہمیں اس بارہ میں کوئی جواب نہیں دیا۔اس لئے اب ہماری آنکھیں صرف خدا کی طرف ہیں۔و نعم المولى ونعم الوكيل یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قادیان میں سکھ حملہ آوروں کا مقابلہ کیا گیا یا نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی ہدایت کے ماتحت قادیان میں ہمارا طریق یہ تھا کہ جب صرف سکھ عوام حملہ کرتے تھے تو ہماری جماعت کے لوگ اس حملہ کا مقابلہ کرتے تھے اور خدا کے فضل سے ہر مقابلہ میں کامیاب رہتے تھے۔لیکن جب حملہ آوروں کے ساتھ پولیس اور ملٹری شامل ہوتی تھی ( اور آخر میں تو اکثر یہی ہوتا تھا ) تو ہمارے آدمی اپنے امام کی اس ہدایت کے ماتحت کہ حکومت کا مقابلہ کسی صورت میں نہ کیا جائے۔اس مقابلہ سے ہاتھ کھینچ لیتے اور اپنی حفاظت کے معاملہ کو خدا کے سپر د کر دیتے تھے۔بالآخر یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ باوجود ان سب باتوں کے اس وقت بھی ۳۱۳ احمدی قادیان میں اپنے محبوب آقا کے قدموں میں دھونی رمائے بیٹھے ہیں۔اور دشمن کے مظالم کا بڑے سے بڑا طوفان بھی خدا کے فضل سے ان کے قدموں کو متزلزل نہیں کر سکا۔اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی پیشگوئیوں ( مثلاً الہام داغ ہجرت ) کے مطابق جماعت احمدیہ کے امام اور قادیان کے اکثر احمدی دوستوں کو قادیان سے ہجرت کرنی پڑی۔اسی طرح انشاء اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی ضرور آئے گا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے الہاموں کے مطابق جماعت احمد یہ اپنے مقدس مرکز کو پھر واپس حاصل کرے گی۔اور خدا کا یہ الہام پورا ہوکر رہے گا۔کہ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ۔( مطبوعه الفضل ۸جنوری ۱۹۴۸ء)