مضامین بشیر (جلد 2) — Page 155
۱۵۵ مضامین بشیر کی تین مسجدوں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔یعنی مسجد محلہ دار الرحمت کے مینار مسمار کر دیئے گئے تاکہ مسجد کی علامت کو مٹا دیا جائے۔مسجد خوجیاں ( جو قادیان کے دوسرے مسلمانوں کی مسجد تھی ) پر یہ بورڈ لگا دیا گیا کہ یہ آریہ سماج کا مندر ہے اور محلہ دار العلوم کی مسجد نور جو تعلیم الاسلام کا لج کے ساتھ ملحق تھی اسے غیر مسلموں نے اپنی جلسہ گاہ بنالیا اور محن مسجد کے نلکوں پر سکھوں نے کپڑے دھونے شروع کر دئے۔(۶۱) ۱۶/ نومبر ۱۹۴۷ء۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مولوی جلال الدین صاحب شمس اور عزیزم مرزا ناصر احمد صاحب قادیان سے لاہور آگئے اور شمس صاحب کی جگہ قادیان میں مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی اور عزیزم مرزا ظفر احمد صاحب ناظر اعلی مقرر ہوئے۔(۶۲) ۲۱ / نومبر ۱۹۴۷ء۔ہمارے ایک مکان کی دیوار کو جبر اگر ا کر سکھوں نے اسے ساتھ کے گوردوارہ میں زبر دستی شامل کر لیا۔بار بار کے احتجاج کے حکومت نے ابھی تک اس معاملہ میں کوئی عملی دادرسی نہیں کی۔(۶۳) ۱۴ / دسمبر ۱۹۴۷ ء۔اس دن معلوم ہوا کہ قادیان کے ملحقہ احمدی گاؤں منگل باغباناں سے متصل بہشتی مقبرہ کی مسجد کے مینار گرا کر مسمار کر دیئے گئے ہیں اور اس پر کانگرس کا جھنڈا لہرایا گیا ہے اور اب اسے سکھ پناہ گزینوں کی رہائش کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔(۶۴) ۲۳ دسمبر ۱۹۴۷ ء۔اس دن ہمارے بعض دوستوں کو مسجد نور محلہ دارالعلوم میں جانے کا موقع میسر آیا تو انہوں نے وہاں قرآن کریم کے تین من اوراق پھٹے ہوئے پائے۔جنہیں اکٹھا کر کے جلا دیا گیا۔ہماری مقدس کتاب کے اوراق پھاڑنے میں اپنے خبث باطن کے اظہار اور دل آزاری کے سوا اور کوئی غرض نہیں سمجھی جاسکتی۔مظالم قادیان کے اس خونی روز نامچہ کو درج کرنے کے بعد صرف یہ بات قابل ذکر رہ جاتی ہے کہ ہم ان مظالم پر خاموش نہیں بیٹھے اور ہر واقعہ پر مشرقی پنجاب اور انڈین یونین کے وزراء اور دیگر ذمہ دار افسروں کو خطوں اور تاروں اور بعض صورتوں میں زبانی گفتگو کے ذریعہ ساتھ ساتھ اطلاع بھجواتے رہے ہیں مگر سوائے آخری ایک دو واقعات کے رسمی جواب کے ہمارے کسی خط یا کسی تار وغیرہ کا جواب تو در کنار رسید تک نہیں آئی۔ہم نے یہ بھی بار بار کہا کہ جب ایک طرف انڈین یونین یہ دعوی کر رہی ہے کہ جو مسلمان بھی پر امن اور وفا دار شہری کے طور پر انڈین یونین میں رہنا چا ہے، اس کی پوری پوری حفاظت کی جائے گی اور دوسری طرف ہم نے اپنے متعلق بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ یہ قدیمی اصول ہے کہ جس حکومت کے ماتحت احمدی رہیں۔اس کے وفادار ہو کر ر ہیں اور قادیان کے احمدی بہر حال انڈین یونین کے وفادار رہیں گے تو پھر کیوں ہم پر یہ مظالم ڈھا کر ہمیں ہمارا