مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 151 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 151

۱۵۱ مضامین بشیر (۴۰) ۲۰ ستمبر ۱۹۴۷ء :۔پولیس نے مقامی خاکروبوں کو حکم دے دیا کہ مسلمانوں کے گھروں میں صفائی کے لئے نہ جائیں جس کی وجہ سے احمدیوں کے گھر نجاست سے اٹ گئے اور احمدیوں کو خود اپنے ہاتھ سے صفائی کا کام کرنا پڑا۔(۴۱) یکم اکتو بر تا ۶۔اکتوبر ۱۹۴۷ء :۔بٹالہ کی ملٹری نے پاکستان کی حکومت کے بھجوائے ہوئے لڑکوں کو یہ بہانہ رکھ کر قادیان جانے سے روک دیا کہ قادیان کی سٹرک زیر مرمت ہے۔اور جب ہمارے ٹرک بٹالہ میں رکے تو اس پر سکھ جتھوں اور غیر مسلم ملٹری نے مل کر فائر کئے جس کے نتیجہ میں کئی آدمی زخمی ہوئے اور بعض لا پتہ ہیں۔اور ٹرک بھی جلا دیا گیا۔اس کنوائے میں میرا لڑکا مرز امنیر احمد بھی شامل تھا۔جو بٹالہ میں دو دن تک قیامت کا نمونہ دیکھنے کے بعد لاہور واپس پہنچا۔رستہ کے زیر تعمیر ہونے کا عذر محض بہا نہ تھا اور غرض یہ تھی کہ ان ایام میں بیرونی دنیا سے قادیان کا تعلق بالکل کاٹ کر قادیان کے احمدیوں کو لوٹا اور ختم کیا جا سکے۔چنانچہ جیسا کہ بعد کے واقعات بتائیں گے قادیان پر بڑا حملہ انہی تاریخوں میں ہوا۔(۴۲) یکم اکتوبر ۱۹۴۷ء : - حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا مکان بیت الحمد واقع محلہ دارالانوار قادیان جس میں حضور کے بعض بچے رہائش رکھتے تھے ملٹری نے زبر دستی خالی کرا کے اپنے قبضہ میں کرلیا۔(۴۳) ۲۔اکتوبر ۱۹۴۷ ء :۔پولیس نے احمدیوں کی آٹا پینے کی چکیاں حکماً بند کرا دیں۔جس کے نتیجہ میں قادیان کے محصور شدہ ہزاروں احمدیوں کو جن میں بچے عورتیں اور بوڑھے شامل تھے کئی دن تک گندم کے دانے ابال ابال کر کھانے پڑے اور اس وجہ سے بے شمار لوگ پیچش کی مرض کا شکار ہو گئے۔(۴۴) ۲۔اکتوبر ۱۹۴۷ء: تعلیم الاسلام ڈگری کالج قادیان اور فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان کی عمارت اور سامان پر ملٹری نے جبراً قبضہ کر لیا اور احمدیوں کو زبر دستی باہر نکال دیا۔(۴۵) ۲۔اکتوبر ۱۹۴۷ء :۔سکھ جتھوں نے پولیس کی امداد سے محلہ دار الرحمت ( یہ محلہ دار الرحمت نہیں ہے بلکہ قادیان کی پرانی آبادی کے ساتھ جنوب مغربی جانب دارالصحت کے قریب ایک اور محلہ ہے ) حملہ کیا۔اور حملہ آوروں کا ایک جتھہ محلہ مسجد فضل قادیان میں بھی گھس آیا اور لوٹ مچائی۔(۴۶) ۲۔اکتوبر ۱۹۴۷ء : موضع بھینی با نگر متصل محلہ دار البرکات و دار الانوار قادیان پرسه جتھوں نے حملہ کیا۔ہند وملٹری موقعہ پر موجود تھی۔مگر ہوا میں فائر کرنے کے سوا اس نے حملہ کے روکنے میں کوئی حصہ نہیں لیا۔اور ۲-۳۔اکتوبر کی درمیانی شب قریباً ساری رات گولیاں چلتی رہیں۔بھینی کی کئی مسلمان عورتیں اغوا کر لی گئیں اور گاؤں خالی کرالیا گیا۔مطبوعه الفضل ۷ جنوری ۱۹۴۸ء) رسکھ