مضامین بشیر (جلد 2) — Page 150
مضامین بشیر ۱۵۰ (۳۳) ۲۴ ستمبر ۱۹۴۷ء: - عزیزم مرزا ناصر احمد سلمہ ایم۔اے پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے بڑے صاحبزادے کے مکان النصرۃ واقع محلہ دارالانوار قادیان کی تلاشی لی گئی مگر کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔(۳۴) ۲۴ ستمبر ۱۹۴۷ء :۔پولیس نے محلہ دارالشکر قادیان کے متعدد مکانات کی تلاشی لی اور گو کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔مگر ہزاروں روپے کے زیورات اور نقدی اور دیگر اشیاء اٹھا کر لے گئی اور پناہ گزینوں کی پانچ لڑکیاں بھی پکڑ کر ساتھ لے گئی۔جنہیں بعد میں واپس کر دیا گیا۔(۳۵) ۲۵ ستمبر ۱۹۴۷ء:۔چار مسلمان پناہ گزینوں کو جو مکان آشیانہ مبارک متصل محلہ دار الانوار قادیان میں پناہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے پولیس نے گولی کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا اور ان کی عورتوں کو پکڑ کر لے گئی۔اس کے علاوہ دو مزید آدمی لا پتہ ہو گئے اور بعض زخمی ہوئے۔یہ واقعہ ۲۵ اور ۲۶ ستمبر کی درمیانی شب ہوا۔(۳۶) ۲۷ ستمبر ۱۹۴۷ء :۔قادیان میں ٹھہرے ہوئے پناہ گزینوں کے قریباً پانچ ہزار مویشی مالیتی قریباً ۲۰ لاکھ روپیہ پولیس کی امداد کے ساتھ سکھوں نے لوٹ لئے اور ان کے گڑے اور چھکڑے بھی لے گئے جس کی وجہ سے وہ آئندہ چلنے والے پیدل قافلہ میں اپنا سامان ساتھ رکھنے کے نا قابل ہو گئے۔پناہ گزینوں کے علاوہ مقامی احمدیوں کے متعدد مویشی بھی سکھ حملہ آور لوٹ کر لے گئے۔(۳۷) ۲۷ ستمبر ۱۹۴۷ء تا یکم اکتوبر ۱۹۴۷ء: - سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی بیت الظفر واقع محلہ دارالانوار قادیان کا تمام سامان سوائے کچھ معمولی فرنیچر کے ملٹری نے لوٹ لیا اور یہ لوٹ برابر پانچ دن تک جاری رہی۔ملٹری کے ٹرک رات کو آتے تھے اور کوٹھی کا سامان سمیٹ سمیٹ کر لے جاتے تھے۔کوٹھی کے مویشی بھی لوٹ لئے گئے۔(۳۸) ۲۹ ستمبر ۱۹۴۷ء : - مولوی احمد خاں صاحب نسیم مولوی فاضل انچارج مقامی تبلیغ اور مولوی عبد العزیز صاحب مولوی فاضل انچارج شعبہ خبر رساں جماعت احمدیہ کو پولیس نے دفعہ ۳۹۶، ۳۹۷ تعزیرات ہند کے ماتحت گرفتار کر لیا۔اور معلوم ہوا ہے کہ انہیں پولیس کی حراست میں سخت تکلیف دی جاتی رہی ہے۔(۳۹) ۲۹ ستمبر ۱۹۴۷ء :۔محلہ دارالا نوار قادیان کے متعدد مکانوں کو لوٹا گیا ، ان مکانوں میں کرنیل ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب اسٹنٹ ڈائرکٹر جنرل میڈیکل سروس پاکستان اور خان بہادر چوہدری ابوالہاشم خان صاحب ایم۔اے ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے سابق امام مسجد لنڈن کے مکانات بھی شامل تھے۔