مضامین بشیر (جلد 2) — Page 142
مضامین بشیر دے رہے ہیں۔۱۴۲ مگر دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ نظریہ بالکل غلط اور خلاف تعلیم اسلام ہے۔اسلام کسی صورت میں بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی شخص کے مال کو اپنا بنا لیا جائے یا اس میں مالکا نہ تصرف کیا جائے کیونکہ اول تو یہ فعل امانت اور دیانت کے خلاف ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے خطبہ میں جبکہ آپ حج کے میدان میں مسلمانوں کو گویا آخری اجتماعی نصیحت فرما ر ہے تھے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر اور خدا کو گواہ رکھ کر یہ زبر دست نصیحت فرمائی تھی۔کہ ان دماء كم و اموالكم واعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهر كم هذا في بلدكم هذا فليبلغ الشاهد الغائب۔۔یعنی اے مسلمانو! تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ حج کا دن اور تمہارا یہ عزت کا مہینہ اور تمہارا یہ مقدس شہر خدا کی طرف سے حرمت والے قرار دیئے گئے ہیں۔میری اس نصیحت کو سنو اور دوسروں تک پہنچاؤ۔علاوہ ازیں اس قسم کی اجازت کے دینے سے ایک ایسا دروازہ کھلتا ہے کہ جن میں اکثر لوگوں کے لئے جائز و نا جائز صورت میں تمیز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ رستہ سخت خطر ناک ہے۔پس کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ خواہ حالات کچھ ہوں۔دوسرے مسلمان کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر اپنے تصرف میں لائے یا مالک کی اجازت کے بغیر اسے دوسروں میں بانٹ دے۔اگر ایسے لوگوں میں حقیقتاً ہمدردی کا خیال تھا تو ان کا فرض تھا کہ خطرہ کے وقت اپنے بھائیوں کے مال کی بھی اسی طرح حفاظت کرتے جس طرح کہ وہ اپنے مال کی حفاظت کرنا چاہتے تھے اور اگر کوئی غریب مسلمان بھائی امداد کا مستحق تھا تو اسے یا تو اپنے ذاتی مال میں سے دیتے یا مالک سے پوچھ کر اس کی اجازت کے ساتھ اس کا مال تقسیم کرتے۔ورنہ ظاہر ہے کہ اس قسم کے کمزور اور خود غرضانہ استدلالوں کی وجہ سے قوم میں بد دیانتی کی روح پیدا ہوتی ہے اور وہ عظیم الشان خدمت جو ہمارا پیارا اسلام دوسرے مسلمانوں کی جان اور مال کی قائم کرنا چاہتا ہے قائم نہیں رہ سکتی۔بے شک خود مالک اپنے مال کے متعلق جو تصرف کرنا چاہے کرے، اس کے لئے کوئی روک نہیں اور اگر کوئی مسلمان اپنے مال کو غیر مسلموں کی طرف سے خطرہ میں دیکھ کر اسے غریب مسلمانوں میں تقسیم کر دیتا ہے تو یقیناً وہ ایک نیک کام کرتا ہے اور اس کا یہ فعل ایک صدقہ کا رنگ رکھتا ہے جو خدا کے حضور میں مقبول ہو گا لیکن اگر کوئی شخص خطرہ کے وقت میں اپنے مال کو تو بچا کر رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے مگر دوسرے مسلمانوں کے مالوں کو ان کی اجازت کے بغیر لے لیتا ہے یا دوسروں میں تقسیم کر دیتا ہے تو اس کا یہ فعل اس امانت اور دیانت کے خلاف ہے