مضامین بشیر (جلد 2) — Page 141
۱۴۱ مضامین بشیر بلا اجازت دوسرے کا مال لے لینا کسی صورت میں جائز نہیں دنیا میں ہراچھا اور برا تغیر نئے مسائل پیدا کر دیتا ہے جو سابقہ حالات میں نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔گزشتہ خطرناک فسادات نے بھی بعض ایسے مسائل پیدا کر دئے ہیں جن کی طرف اس سے پہلے اس رنگ میں توجہ نہیں تھی۔اس قسم کے مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا کوئی ایسی صورت ممکن ہو سکتی ہے کہ جب انسان کے لئے کسی دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر لے لینا یا اس کی اجازت کے بغیر لے کر دوسروں میں تقسیم کر دینا جائز سمجھا جائے۔عام حالات میں ہر سچا مسلمان یہی سمجھتا ہے کہ دوسرے کا مال بہر حال ممنوع ہے لیکن گزشتہ فسادات کے نتیجہ میں بعض ایسی خاص صورتیں پیش آئیں کہ جن میں بعض لوگ بظاہر دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھنے لگ گئے کہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت ہمارے لئے دوسروں کا مال لے لینا یا دوسروں کا مال لے کر مستحق لوگوں میں تقسیم کر دینا جائز ہو گیا ہے۔ایسی صورتیں بہت سی ہیں مگر میں اپنے اس مختصر مضمون میں اس سوال کے صرف دو پہلوؤں کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ کیا خاص حالات میں اپنے دوستوں کا مال ان کی اجازت کے بغیر لے لینا یا لے کر دوسروں میں تقسیم کر دینا جائز ہے؟ دوم یہ کہ کیا خاص حالات میں غیر مسلموں کا مال لوٹ لینا جائز ہے؟ گزشتہ فسادات میں جب بعض مقامات میں سکھوں اور ہندوؤں کے فتنہ وفساد اور لوٹ مار کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے نہایت درجہ خطر ناک حالات پیدا ہو گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے بعض مسلمان بھائیوں کا مال و متاع ان کی آنکھوں کے سامنے لوٹا جا رہا یا بر باد کیا جا رہا ہے اور انہوں نے خیال کیا کہ ان حالات میں اندیشہ ہے کہ کمزور اور بے بس مسلمانوں یا غیر حاضر مسلمانوں کا مال و اسباب سب کا سب سکھوں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے یا تباہی اور بربادی کا نشانہ نہ بن جائے تو بعض مسلمانوں نے یہ خیال کر کے کہ دشمن کے ہاتھ میں مسلمانوں کے مال کے چلے جانے یا دشمن کے ہاتھ سے مسلمانوں کے مال کے تباہ ہو جانے سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان بھائی کے کام آ جائے ، ان کی اجازت کے بغیر یا تو خود اپنے غیر حاضر مسلمان بھائیوں کا مال اپنے تصرف میں لے لیا یا دوسرے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور اپنے خیال میں سمجھا کہ اس طرح ہم ایک قومی خدمت سرانجام