مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 128

مضامین بشیر۔۱۲۸ طرح ہمارے عقیدے کے مطابق حضرت مسیح ناصری کو بھی صلیب کے واقعہ کے بعد ہزاروں میل کا سفر اختیار کر کے کشمیر میں آنا پڑا اور بالآخر نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم کی ہجرت تو ایک ایسا واقعہ ہے جسے مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے حتی کہ اسی پر اسلامی سنہ کی بنیا د قائم کی گئی ہے مگر کون ہے جو ان نبیوں کے مشوں کو نا کام کہہ سکتا ہے یا ہجرت کی وجہ سے ان کے خلاف زبان طعن دراز کر سکتا ہے۔حق یہی ہے کہ ہر الہی سلسلے کا مرکزی نقطہ اور بنیادی اینٹ اس کی وہ تعلیم ہے جسے لے کر وہ دنیا میں آتا ہے۔اگر یہ تعلیم کا میاب اور غالب ہو جاتی ہے تو ایک ہی مرکز پر قائم رہنے یا کئی مرکزوں میں تبدیل ہونے کا سوال ایک محض ثانوی سوال ہے اور کسی عقلمند کو اس سوال میں الجھ کر حقیقت کی طرف سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ میں تو اپنے دوستوں سے یہاں تک کہوں گا کہ اگر کسی احمدی کے دل میں قادیان کی جدائی کا خیال جذباتی رنگ میں اتنا غلبہ پائے ہوئے ہے کہ وہ اس کے لئے خدمت اسلام اور تحریک احمدیت کے کامیاب بنانے کے رستہ میں روک بن رہا ہے تو اسے چاہئے کہ قادیان کا خیال اپنے دل سے اس طرح نکال دے جس طرح ایک راہ گیر اپنے پاؤں کا کانٹا نکال کر پھینک دیتا ہے۔کیونکہ بہر حال قادیان ایک جسم ہے اور جسم کے لئے کسی صورت میں روح کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔نعوذ باللہ میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ قادیان کی محبت اور اس کی کشش اور اس کے احترام کے جذبہ کو صدمہ پہنچاؤں۔یہ جذبہ ایک مقدس امانت ہے اور اسے قائم رکھنا ایک مقدس فرض لیکن اگر کسی شخص کے دل میں یہی جذبہ حد اعتدال سے گزر کر ایک مقدس تر امانت اور مقدس تر فریضہ کے ساتھ ٹکرانے لگتا ہے تو پھر عقلمند انسان کا رستہ صاف ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی تامل کی گنجائش نہیں۔ہمارے دین کا مرکزی نقطہ خدا کی ذات پر ایمان لانا ہے اور دوسرے نمبر پر خدا کے منشاء اور رضا کو معلوم کرنا اور اُسے پورا کرنا ہے اس کے بعد ہر چیز حقیقتہ ثانوی ہے۔مطبوعہ الفضل ۷ دسمبر ۱۹۴۷ء)