مضامین بشیر (جلد 2) — Page 129
۱۲۹ مضامین بشیر ضلع گورداسپور کی جماعتیں کہاں ہیں؟ ضلع گورداسپور میں خدا کے فضل سے بہت سے دیہات میں جماعتیں قائم تھیں اور بعض گاؤں تو سالم کے سالم احمدی تھے۔گزشتہ فسادات کے نتیجہ میں یہ سب جماعتیں مغربی پنجاب کی طرف چلی آنے پر مجبور ہوئی ہیں مگر ابھی تک ساری جماعتوں کے متعلق یہ پختہ علم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں کہاں جا کر آباد ہوئی ہیں۔ایسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موجودہ پتہ سے مفصل اطلاع دیں اور اگر کوئی جماعت ایک سے زیادہ حصوں میں بٹ کر آباد ہوئی ہو تو اسے اپنی رپورٹ میں اس کی بھی صراحت کرنی چاہئے۔مجھے خصوصاً ان جماعتوں کے نئے پتوں کی ضرورت ہے۔جو قادیان کے ماحول میں آباد تھیں۔مثلا منگل باغباناں۔بھینی بانگر۔کھارا۔بسراواں۔چھینہ ریت والا۔ٹھیکر یوالہ۔تلونڈی جھنگلاں۔فیض اللہ چک۔بہل چک - بازید چک۔تھ غلام نبی۔سٹھیالی۔ہر سیاں کھوکھر۔ونجواں۔سیکھواں۔قلعہ درشن سنگھ - گلانوالی۔خان فتا۔دھرم کوٹ بگہ۔اٹھوال۔شکار ماچھیاں چھیچھریاں چٹھہ۔لودھی منگل۔سار چور لنگر وال۔مرزا جان۔بہادر حسین۔چود ہری والہ۔مراد پور۔موکل۔کو ہالی۔ماڑی بچیاں مہیس ڈوگر۔بہادر پور۔رجوعے ہبیری۔پھیر و پیچی۔بگول۔بھامبڑی۔بھٹیاں وغیرہ وغیرہ یہ جماعتیں اور ضلع گورداسپور کی دوسری جماعتیں مجھے اپنے جدید پتوں سے مفصل اطلاع دے کر ممنون کریں۔جن جماعتوں یا افراد کو ابھی تک آباد ہونے کے لئے کوئی جگہ میسر نہ آئی ہو وہ بھی بواپسی اطلاع دیں تا کہ ان کے لئے انتظام کیا جا سکے۔مطبوعه الفضل ۱۰ ؍ دسمبر ۱۹۴۷ء )