مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 115

۱۱۵ مضامین بشیر میں بدل دیا جائے گا۔پس کمیشن ضلع کے یونٹ کو چھوڑ کر باقی مذکورہ بالا پانچ یونٹوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر کے علاقوں کی تقسیم کرنے پر مجبور ہوگا۔اور ان پانچ یونٹوں میں سے بھی اغلبا کمیشن گاؤں کے یونٹ کو نظر انداز کر دے گا کیونکہ اس یونٹ کے اختیار کرنے میں دونوں علاقوں کی درمیانی سرحد بے حد بے ترتیب۔کٹی پھٹی اور آپس میں الجھی ہوئی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے مستقل خطرے اور فتنہ وفساد کا باعث بنی رہے گی۔اس کے بعد باقی چار ( یعنی ذیل حلقہ قانونگو۔تھانہ اور تحصیل ) یونٹوں میں سے صحیح یونٹ کا انتخاب ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کے واسطے کمیشن کو کافی غور کی ضرورت ہوگی۔بادی النظر میں تحصیل کے یونٹ کا انتخاب بہت زیادہ موزوں اور مناسب معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ ضلع سے چھوٹے یونٹوں میں سے تحصیل ہی ایک ایسا یونٹ ہے۔جس کی آبادی کے اعداد و شمار با قاعدہ طبع شدہ صورت میں موجود ہیں۔جس کی وجہ سے اعداد وشمار میں رد و بدل یا جعل سازی کے احتمال کی گنجائش نہیں سمجھی جاسکتی۔(۱۰) برطانوی تجویز میں یہ امر بھی بالصراحت موجود ہے کہ مسلم اور غیر مسلم اکثریت کے علاقوں کی تعیین میں ۱۹۴۱ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار ہر لحاظ سے آخری اور مستند تسلیم کئے جائیں گے۔پس ان اعداد و شمار کی صحت پر کسی فریق کو معترض ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔کیونکہ اس کا نتیجہ تضیع اوقات کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔یہ دعویٰ کہ ۱۹۴۱ء کی مردم شماری میں مسلمانوں نے اپنی تعداد کو نا جائز طور پر بڑھا کر دکھایا ہے۔سراسر بے بنیا د اور خلاف عقل اور خلاف قیاس ہے۔اگر اعدادو شمار میں کوئی ناجائز تصرف ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ تصرف تمام فرقوں کے اعداد و شمار میں ہوا ہو گا۔خصوصا ہندو اور سکھوں کے اعداد و شمار میں ایسے ناجائز تصرف کا ہونا زیادہ قرین قیاس ہے۔کیونکہ یہ لوگ خواندگی اور سیاسی بیداری میں مسلمانوں سے آگے ہیں۔جس کی بناء پر یہ گمان کرنا بعید از قیاس نہیں کہ اگر کوئی نا واجب تصرف ہوا ہے تو ان قوموں نے دوسروں کے مقابلہ پر سیاسی برتری حاصل کرنے کے خیال سے یقیناً زیادہ جد و جہد کی ہوگی۔" (۱۱) ظاہر ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے خلاف سیاسی سمجھوتہ صرف ہندوؤں اور سکھوں تک محدود ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ آبادی کے اعداد و شمار معلوم کرنے میں مسلم بمقابلہ غیر مسلم“ کے اصول کی بجائے ” مسلم بمقابلہ ہندو سکھ کے اصول کے مطابق نظر ڈالی جائے۔پس ایسے علاقے جہاں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں اور سکھوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہو۔( مثلا ضلع ہوشیار پور کی تحصیل ہائے ہوشیار پور اور دسوہہ۔وہاں باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو تمام غیرمسلمانوں کے مقابل پر مجموعی اکثریت حاصل نہ ہو۔فیصلہ کا صحیح طریق یہ ہونا چاہئے کہ اچھوت اور عیسائی اقوام