مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 111 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 111

111 مضامین بشیر کے لئے ہر وقت تیار پائے گی۔پس مکرم ایڈیٹر صاحب ہمارے ظلموں کا قصہ تو آپ رہنے دیں۔ظلم قوموں کو بنایا کرتے ہیں بگاڑتے نہیں۔ہاں آپ میرے مخلصانہ مشورہ پر غور کر کے اس بات کو ضرور سوچیں کہ پنجاب کی تقسیم سکھوں کو کیا دے رہی ہے۔اور ان سے کیا لے رہی ہے۔خدا کی دی ہوئی عقل کا ترازو آپ کے ہاتھ میں ہے۔اپنے وقتی جوش و خروش کو ذرا ٹھنڈا کر کے اس خدائی ترازو میں اپنے لین دین کا حساب تول جائیے۔اور پھر انصاف سے کہئے کہ کیا پنجاب کی تقسیم آپ کی قوم کے لئے کسی جہت سے بھی نفع کا سودا ہے؟ اگر ہندو کے سہارے کا خیال ہے تو میری یہ بات لکھ لیں کہ یہ سہارا زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔اس کے نتیجہ میں یا تو آپ اپنی آزاد ہستی کو کھو بیٹھیں گے۔اور یا کچھ عرصہ کے بعد تنگ آکر اس سے جدا ہو جائیں گے۔آخر ایک تاجر قوم جس کا اوڑھنا بچھونا سب کا روباری اصول کے تارو پود سے تیار شدہ ہے۔کب تک آپ کے سمجھوتہ کو بیاج کے بغیر رہنے دے گی۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ اس بیاج کا بیلنس شیٹ آج سے چند سال بعد جا کر آپ کی آنکھوں کے سامنے آئے۔ہم ہندوؤں کے خلاف نہیں۔کیونکہ وہ بھی ہمارے وطنی بھائی ہیں۔مگر جہاں طبعی اور فطری جوڑ کا سوال ہو۔وہاں سچی بات کہنی پڑتی ہے۔بالآخر آپ نے اپنے مضمون میں بعض ان مظالم کی بھیا نک تصویر کھینچ کر دکھائی ہے۔جو آپ کے خیال کے مطابق بعض مسلمانوں نے بعض سکھوں پر کئے ہیں۔مثلا آپ لکھتے ہیں کہ بعض جگہ سکھ بچوں کو نگا کر کے انہیں دیکھا گیا کہ آیا وہ لڑکا ہیں یا لڑکی اور اگر لڑ کا ہے تو مار دیا گیا۔اور لڑ کی ہوئی تو اسے اغواء کر لیا گیا۔اگر آپ نے اس بات میں کوئی ایسی تحقیق کی ہے۔جو ایک غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیق کا رنگ رکھتی ہے۔تو میں اس کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔آپ جانیں اور آپ کا ایمان۔ہاں اصولی طور پر میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ جو شخص بھی ظالم ہے خواہ وہ کوئی ہو۔اس کا فعل انتہائی نفرت اور انتہائی بیزاری کے قابل ہے۔اور جو شخص بھی مظلوم ہے خواہ وہ کوئی ہو۔وہ ہماری دلی ہمدردی دکا مستحق ہے۔ہمارے پیارے نبی فداہ نفسی نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ انصرا خاک ظالما او مظلوما۔۔یعنی اپنے بھائیوں کی امداد کرو۔خواہ وہ ظالم ہوں یا مظلوم ہوں۔“ اور جب صحابہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ مظلوم کی امداد تو ہم آپ سے ہمیشہ سنتے آتے ہیں مگر یہ ظالم کی امداد کے کیا معنی ہیں؟ تو آپ نے بے ساختہ فرمایا کہ ظالم کی امداد یہ ہے کہ اسے ظلم کرنے سے روکو۔اللہ اللہ ! کیا ہی پیاری تعلیم ہے۔جو آج سے چودہ سو سال قبل عرب کے ریگستان سے بلند ہوئی مگر دنیا نے اس کی قدر کو نہ پہچانا۔اگر ہر قوم اس تعلیم پر کار بند ہو تو ساری دنیا ایک دن میں جنت کا نظارہ پیش کر سکتی ہے۔پس مکرم ایڈیٹر صاحب ! اگر کسی مسلمان نے ظلم کیا ہے تو ہمیں ایک منٹ کے "