مضامین بشیر (جلد 2) — Page 97
۹۷ مضامین بشیر حصوں میں تقسیم ہو کر اور آدھے آدھے دھڑ کے دو بت بن کر رہ جائیں گے اور ہندو اکثریت کا حصہ بننے کے جو خطرات آہستہ آہستہ میٹھی چھری کی صورت میں ظاہر ہوں گے وہ مزید برآں ہیں۔بہر حال سکھ صاحبان کو ہمدردی اور دلائل کے ساتھ سمجھانے کا کام نہایت ضروری ہے اور فورا شروع ہو جانا چاہئے۔اس کے علاوہ اس نازک وقت میں مسلمانوں کو جو دوسرا ضروری کام کرنا چاہیئے ، وہ باونڈری کمیشن یعنی سرحدی کمیشن کے لئے تیاری کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہ ایک بھاری دفتری نوعیت کا کام ہے۔جو انتہائی محنت اور احتیاط چاہتا ہے اور موٹے طور پر مندرجہ ذیل اقسام میں منقسم ہے :- (1) اس تعلق میں سب سے مقدم کام یہ ہے کہ مردم شماری کا ریکارڈ دیکھ کر ( یادر ہے کہ عام مطبوعہ ریکارڈ کے علاوہ ضلعوں کے صدر مقاموں میں تفصیلی مردم شماری کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے ) ایسے اعداد و شمار تیار کرائے جائیں کہ جن سے پنجاب کے مسلم اکثریت والے علاقے ( خواہ یہ اکثریت کتنی ہی قلیل ہو۔کیونکہ جمہوری اصول کے ماتحت ہرا کثریت لازماً اکثریت ہی سمجھی جاتی ہے۔خواہ وہ کتنی ہی خفیف ہوا اور کسی صورت میں بھی اس کے اثر کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا ) اور اس غرض کے لئے ضلعوں کی حدود کو نظر انداز کر کے تفصیلی ریکارڈ تیار کیا جائے۔تا کہ زیادہ سے زیادہ علاقہ مغربی پنجاب کے ساتھ شامل ہو سکے۔اور یہ بھی ضروری ہے کہ اعداد و شمار کے نتیجہ کو نمایاں صورت میں ظاہر کر نے کے لئے مناسب نقشے بھی تیار کرائے جائیں۔جن میں مسلم اور غیر مسلم اکثریت والے علاقوں کو علیحدہ علیحدہ رنگوں میں دکھایا جائے۔تا ان کے مطالعہ سے فوراً صحیح صورت ذہن میں آسکے۔ایسے نقشے ضلعوں کے جرنیلی نقشوں کی بناء پر محکمہ سروے یا محکمہ نہر کے پنشن یافتہ مسلمان یا قومی سکولوں کے جغرافیہ کے استاد صاحبان یا ہوشیار پٹواری اور گرد اور صاحبان آسانی سے بنا سکتے ہیں۔اسی طرح ایسے علاقے جن میں مسلمان کامل اکثریت میں تو نہیں مگر ہندوؤں اور سکھوں دونوں کے مجموعے سے زیادہ ہیں۔انہیں بھی اعداد و شمار نکالنے کے بعد علیحدہ صورت میں نوٹ کر لینا چاہئے ( مثلا ضلع ہوشیار پور کی تحصیل ہوشیار پور اور تحصیل دسوہہ جن میں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں اور سکھوں دونوں کے مجموعے سے زیادہ ہے) اور باونڈری کمیشن پر زور دینا چاہئے کہ ایسے علاقے بھی مغربی پنجاب کے ساتھ شامل رکھے جائیں۔کیونکہ مسلمانوں کے خلاف موجودہ عارضی سمجھوتہ صرف ہندوؤں اور سکھوں تک محدود ہے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ دوسری قوموں مثلاً ہندوستانی عیسائیوں یا اچھوتوں کو سیاسی حقوق کے تصفیہ میں خواہ مخواہ مسلمانوں کے خلاف شمار کیا جائے۔ایسی صورت میں زیادہ سے زیادہ عیسائیوں اور اچھوتوں کے متعلق ریفرنڈم کا طریق اختیار کیا جا سکتا ہے۔اور اس امکانی صورت کے لئے بھی متعلقہ علاقوں کے مسلمانوں کو تیار رہنا چاہئے۔