مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 96 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 96

مضامین بشیر ۹۶ رحم پر جا پڑتے ہیں۔جنہوں نے سینکڑوں ہزاروں سال سے ان کا گلا دبا رکھا ہے۔تو بعید نہیں کہ یہ دونوں قومیں یا ان کا ایک معقول حصہ مسلمانوں کے ساتھ آملے اور اس طرح اگر خدا کو منظور ہو تو آخری وقت میں پنجاب کی تقسیم رک جائے۔یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اس وقت سکھوں کا ایک بہت کافی حصہ پنجاب کی موجودہ مجوزہ تقسیم سے قطعی طور پر غیر مطمئن ہے۔بلکہ اس معاملہ میں اپنے لیڈروں سے بھی بدظن ہو رہا ہے۔جنہوں نے سوچے سمجھے بغیر ہندؤوں کی انگیخت میں آکر خود اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں پر کلہاڑا چلایا ہے۔پس اگر پنجاب کے سکھ ممبران اسمبلی کو عموما اور مشرقی پنجاب کے سکھ ممبران اسمبلی کو خصوصا دلائل اور محبت کے ساتھ سمجھایا جائے تو عجب نہیں کہ یہ قوم آخری رائے دینے کے وقت جس کے لئے ۲۳ جون کا دن مقرر ہے، اپنے نفع نقصان کو سمجھ لے اور مسلمانوں کے ساتھ ایک باعزت سمجھوتہ کے لئے تیار ہو جائے۔سکھوں کو سمجھانے کے لئے خاکسار کے مضمون ” خالصہ ہوشیار باش‘ کی اشاعت بھی مفید ہوسکتی ہے۔جو اردو، انگریزی اور گورکھی تینوں زبانوں میں شائع کیا گیا ہے اور اس میں مدلل طور پر اس سوال کے سارے پہلوؤں پر مفصل بحث کی گئی ہے۔مگر بہر حال یہ ضروری ہے کہ طعن یا دلآزاری کے رنگ میں کوئی بات نہ کی جائے بلکہ محبت اور ہمدردی کے طریق پر دلائل کے ساتھ سمجھایا جائے۔اور سمجھدار اور با اثر اور سنجیدہ مسلمانوں کے مختلف وفد مشرقی پنجاب کے ۱۲ ضلعوں کے سکھ ممبروں سے مل کر دلی ہمدردی کے رنگ میں بات کریں۔خالصہ ہوشیار باش“ کا مضمون دفتر نشر واشاعت قادیان سے مل سکتا ہے اور انشاء اللہ مطالبہ ہونے پر مفت بھجوا دیا جائے گا۔یہ بات بھی سکھ صاحبان کو سمجھائی جائے کہ سترہ اور بارہ ضلعوں کی موجودہ تقسیم محض عارضی ہے۔اور حدود کا آخری فیصلہ یا ونڈری کمیشن نے کرنا ہے اور یہ بات قریباً قریباً یقینی ہے کہ اگر انصاف سے کام لیا گیا تو متعدد ایسی تحصیلیں جو اس وقت عارضی طور پر مشرقی پنجاب میں شمار کر لی گئی ہیں ، آخری صورت میں لازماً مغربی پنجاب کا حصہ بنیں گی کیونکہ ان میں مسلمانوں کی کثرت ہے۔مثلا ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ اور ضلع جالندھر کی تحصیل جالندھرا اور تحصیل نکو در اور ضلع فیروز پور کی تحصیل فیروز پور اور تحصیل زیرہ جن میں مسلمانوں کو قطعی اکثریت حاصل ہے، مشرقی پنجاب سے نکل کر مغربی پنجاب میں شامل ہو جائیں گی۔کیونکہ وہ اس حصہ کے ساتھ ملتی جلتی اور اسی کے تسلسل میں واقع ہیں اور گو اس کے مقابل پر ممکن ہے کہ مغربی پنجاب کی بھی ایک آدھ تحصیل مسلمانوں کے علاقے سے نکل جائے۔مگر اس تبدیلی کا نتیجہ لازماً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا کہ پنجاب کے دونوں حصوں میں سکھوں کی تقسیم ان کے لئے موجودہ تقسیم سے بھی زیادہ نقصان دہ صورت اختیار کرلے گی۔اور وہ قریباً قریباً دو بالکل برابر