مضامین بشیر (جلد 2) — Page 95
۹۵ مضامین بشیر کا فیصلہ ابھی تک یقینی نہیں ہے۔لیکن غالب گمان یہ ہے کہ اس وقت تک ان کی کثرت رائے کا رجحان ہندوستان کے ساتھ رہنے اور پنجاب کی تقسیم کے حق میں ہے۔اور سوائے اس کے کہ آئندہ چند دن کے اندراندران کی رائے میں کوئی تبدیلی پیدا ہو جائے ، بظاہر یہ فیصلہ قائم رہے گا۔جو سترہ ضلعوں کے گروپ کے لئے واجب التسلیم ہو گا۔یہ بارہ ضلعے جن کے فیصلہ پر اس وقت پنجاب کی قسمت کا دار و مدار ہے یہ ہیں۔(۱) کمشنری لاہور میں سے ضلع امرتسر (۲) کمشنری جالند ہر سالم۔یعنی ضلع کانگڑہ۔ضلع ہوشیار پور ضلع جالندھر۔ضلع لدھیانہ اور ضلع فیروز پور (۳) کمشنری انبالہ سالم یعنی ضلع شملہ ، ضلع انبالہ ضلع رہتک ،ضلع کرنال، ضلع حصار اور ضلع گوڑ گاؤں۔ان بارہ ضلعوں کے ممبران اسمبلی کی تقسیم اس طرح ہے:۔ہندو ۲۳ ممبر ( اکیس کا نگرسی اور دو یونی نسٹ ) اچھوت ممبر ( پانچ کانگرسی اور تین یونی نسٹ ) سکھ 9 امبر (آٹھ کانگرسی اور گیارہ پنتھک ) مسلمان ۲۲ ممبر (سب مسلم لیگی ) دیگر x کل تعدد ۷۲ ممبر پس یہ وہ۷۲ ممبر ہیں جو آئندہ چند دنوں کے اندر اندر پنجاب کی تقسیم یا بالفاظ دیگر پنجاب کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔اس نقشے سے ظاہر ہے کہ اگر ۲۲ مسلمان ممبروں کے ساتھ ۱۵ غیر مسلم ممبر شامل ہو جائیں تو وہ پنجاب کی تقسیم کو روک سکتے ہیں اور سارا پنجاب پاکستان کے ساتھ شامل رہ سکتا ہے۔ہندوؤں میں سے تو بظا ہر کسی ممبر کا ادھر سے ٹوٹ کر ادھر آنا قریباً قریباً ناممکن ہے۔کیونکہ پنجاب کی تقسیم کا سوال دراصل ہندوؤں کا ہی اٹھایا ہوا ہے اور اس میں ان کا ( بلکہ حقیقتا صرف انہی کا ) بھاری فائدہ ہے۔پس ان سے اس معاملہ میں انصاف کی امید رکھنا فضول ہے۔البتہ اگر سکھوں اور اچھوت اقوام کے ممبروں کو ہمدردی اور دلائل کے ساتھ سمجھایا جائے کہ پنجاب کی تقسیم ان کے لئے سرا سر نقصان دہ ہے۔کیونکہ سکھ اس طرح اپنی تعداد کو دو حصوں میں بانٹ کر اور پھر دونوں حصوں میں ایک چھوٹی سی اقلیت رہتے ہوئے اپنی طاقت کو سخت کمزور کر لیتے ہیں اور اچھوت بالکل ہندوؤں کے