مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1051
۱۰۵۱ مضامین بشیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پندرہ دن تک مناظرہ رہا اور آتھم نے بیسیوں میدان بدلے مگر اس نے جس جھاڑی میں بھی پناہ لی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی جھاڑی میں اس کا پیچھا کر کے اس پر ضرب لگائی اور اسے کھلی رسی دی کہ جدھر چاہے بھاگ کر دیکھ لے اسے کہیں پناہ نہیں ملے گی۔مناظرہ کا یہ طریق حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے طریق سے بالکل مختلف تھا۔اس لئے کبھی کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صبر اور ہمت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ یہ حضرت صاحب ہی کی ہمت تھی کہ آتھم کو پندرہ دن کی طویل مہلت دے کر اور اس کا رستہ کھلا چھوڑ کر ہر وادی اور ہر گھائی میں اس کا پیچھا کیا۔اگر میں ہوتا تو خواہ آتھم کا دل ما نتایا ناما نتا اسے چند منٹ میں خاموش کرا کے بحث ختم کر دیتا۔نظریوں کا دلچسپ اختلاف اسی نکتہ پر مبنی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدا داد منصب رسالت کی بناء پر ہر جہت سے دشمن کی تسلی کرانے کی کوشش فرماتے تھے مگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنی طبیعت کے لحاظ سے دومنٹ میں خاموش کرا کے میدان صاف کر دینے کے موید تھے خواہ تسلی ہو یا نہ ہو۔دونوں روحانیت کے میدان کے آزمودہ کا رشکاری تھے مگر ایک شکاری اپنے شکار کے لئے کھلا رستہ چھوڑ کر اور ہر رستہ میں اس کا پیچھا کر کے اسے تھکا تھکا کر گرا تا تھا تا وہ یہ محسوس کر لے کہ میں نے ہر جتن کر دیکھا مگر اس خدائی شکاری سے بچ کر نہ نکل سکا لیکن دوسرا شکاری اپنے شکار کے سامنے کھڑا ہو کر اس کا رستہ بند کر دیتا تھا۔اس فرق کی وجہ سے ایک شکاری کا شکار بسا اوقات اپنی بے بسی محسوس کر کے اپنی مغلوبیت پر تسلی پا جاتا تھا لیکن دوسرے شکاری کا شکار اپنا رستہ مسدود پا کر کڑھتا اور تلملا تا تو بہت تھا مگر ساتھ ہی خیال کرتا تھا کہ اگر ذرا رستہ مل جائے تو میں اب بھی بھاگنے کی ہمت رکھتا ہوں۔لاریب روحانی اصلاح کے اصول کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق ہی بہتر تھا لیکن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے شکار کی مذبوحی کیفیت بھی بس دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔یہ وہ دلچسپ فرق ہیں جو نبیوں تک میں چلتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے حضرت خلیفہ اول کا جذبہ اطاعت و احترام کمال کو پہنچا ہوا تھا اور آپ کو اس جذ بہ میں اس قدر غلبہ تھا کہ بسا اوقات ظاہری سامانوں کی طرف سے بالکل آنکھیں بند کر کے خالص تو کل الہی پر ایک قدم اٹھا لیتے تھے۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۴ء میں دہلی تشریف لے گئے تو اس سفر میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ساتھ نہیں تھے۔دہلی میں غالباً حضرت نانا جان مرحوم کی بیماری کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو تار دلوائی کہ فوراً دلی پہنچ جائیں۔تار لکھنے والے نے تار میں اپنیجی ایٹ لی ( یعنی بلا توقف ) کے الفاظ لکھ دیئے۔حضرت خلیفہ اول کو جب یہ تارپہنچی تو اس وقت آپ اپنے مطب میں تشریف رکھتے -