مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1045 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1045

۱۰۴۵ حضرت خلیفہ اول کی یاد میں تجر۔تصوّف۔تو کل اور تواضع کا ارفع مقام مضامین بشیر ۲۶ / نومبر ۱۹۵۰ء کا دن بہت مبارک دن تھا کیونکہ اس دن حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھیرہ تشریف لے گئے تھے اور وہاں جا کر احباب جماعت کی کثیر تعداد کے ساتھ حضرت خلیفۃ اصیح اول رضی اللہ عنہ کے مکان اور مسجد میں اجتماعی دعا فرمائی۔یہ ایک خاص موقع تھا اور گو یہ خاکسار بعض مجبوریوں کی وجہ سے اس مبارک تقریب میں شامل نہیں ہو سکا مگر جس طرح بعض مدینہ میں رہ جانے والے اصحاب ثواب کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفروں میں آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔اسی طرح میری روح بھی محسوس کرتی تھی کہ میں بھی اس دن لاہور میں رکے ہوئے ہونے کے باوجود اس تقریب میں شرکت کا ثواب پا رہا ہوں۔میں نے اس دن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے لئے بہت دعا مانگی۔آپ کے تصور سے قرآن شریف کی تلاوت اور دن کے بیشتر حصوں میں آپ کے اوصاف حسنہ پر غور کرتا رہا۔اس تقریب نے میرے دل میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کر کے مجھے تحریک کی ہے کہ آپ کے اوصاف حمیدہ کے متعلق ایک مختصر سا مضمون لکھ کر ہدیہ ناظرین کروں تا اگر خدا چاہے تو میرا یہ مضمون دوستوں کے دل میں نیکی کا محرک بن کر ان کے لئے باعث سعادت اور میرے لئے موجب ثواب و مغفرت ہو۔و انما الاعمال بالنيات ولكل امرء مانوى جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھیرہ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔آپ نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام علم دین اور علم طب کے سیکھنے میں خرچ کئے اور انہی ایام میں حج بیت اللہ کا شرف بھی حاصل کیا اور چونکہ طبیعت نہایت درجہ نیک اور سادہ تھی اور ذہن انتہائی طور پر زیرک اور رسا پایا تھا۔اس لئے ظاہری علم نے باطنی جو ہر کے ساتھ مل کر آپ میں ایک خاص قسم کی شان پیدا کر دی تھی۔میں اپنے ذوق کے مطابق آپ کی اس شان کو مربع “ کے ذریعہ ظاہر کیا کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے کسی اور وہی اور دلی اور دماغی کمالات کا خلاصہ ان چار قسم کی ت میں آجاتا ہے۔یعنی تبحر۔تصوف۔تو کل اور تواضع۔۱۶۰