مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1035 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1035

۱۰۳۵ مضامین بشیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بلکہ تمام مومنوں کی ماں قرار دیا۔حق یہ ہے کہ آپ کے انفاس مبارکہ کے ذریعہ گویا ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں کیونکہ خاوند اور بیوی گویا ایک ہی وجود کا حکم رکھتے ہیں اور مبارک بیوی کی زندگی میں مقدس خاوند کی زندگی کی جھلک نظر آجایا کرتی ہے اور ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ظاہری نسل میں سے ہیں، ہمارے لئے تو حضرت اماں جان کا وجود دوہری برکت اور دوہری نعمت اور غیر معمولی روحانی سہارے کا ذریعہ ہے۔گزشتہ ایام میں میرے دل کو بعض پریشانیاں لاحق تھیں۔میں ان دنوں میں حسب دستور حضرت اماں جان کی خدمت میں روزانہ صبح و شام حاضر ہوتا۔تھوڑی دیر پاس بیٹھ کر جو خدمت بھی میسر ہوتی بجا لاتا اور پھر دعا کے لئے عرض کر کے واپس آجاتا اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہتا کیونکہ نہ اس وقت میرا دل اس کی ہمت پاتا تھا اور نہ حضرت اماں جان کی صحت اس کی اجازت دیتی تھی۔ایک دن میں اسی طرح دعا کے واسطے عرض کر کے واپس آنے لگا تو نہ معلوم کیا خیال آیا کہ مجھ سے از خود فرمایا : میاں مجھے تمہاری تکلیف کا علم ہے میں تمہارے واسطے دعا کرتی ہوں“ مائیں ہر ایک کی ہوتی ہیں مگر ہم ایسی شفیق اور مبارک اور دعا کرنے والی ماں کہاں پائیں گے؟ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا اصل غرض یہ ہے کہ حضرت ام المؤمنین اطال اللہ بقاءھا کا وجود حقیقہ ساری جماعت کے لئے ایک بہت بھاری نعمت ہے اور گو ایسے وجودوں کی برکت ان کے بعد بھی جاری رہتی ہے کیونکہ ایسے مبارک وجود مقنا طیس کا رنگ رکھتے ہیں جو اپنے ساتھ چھونے والوں کو بھی برکت سے بھر دیتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ زندگی کی برکت بالکل اور قسم کی برکت ہوتی ہے جس کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک دھوپ میں چلنے والے شخص کے سر پر بادل کا سایہ ساتھ ساتھ رہے اور پھر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے حضرت ام المؤمنین مدظلہا صرف ہماری ہی ماں نہیں ہیں بلکہ حقیقی سب احمد یوں کی ماں ہیں۔پس اب جبکہ ان میں کمزوری کے آثار زیادہ ظاہر ہورہے ہیں۔میں سب بھائیوں اور بہنوں سے عرض کرتا ہوں کہ وہ حضرت اماں جان کے لئے خصوصیت سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کی حالت میں جماعت کے سروں پر اور ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھے۔ان کی برکتوں کے سایہ کو لمبا کرے اور ہمیں ان کی برکتوں اور دعاؤں سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق دے۔آمین یا ارحم الراحمین۔مطبوعه الفضل ۲۲ / نومبر ۱۹۵۰ء)