مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1028
مضامین بشیر ۱۰۲۸ ہزاروں لوگ اس کا شکار ہو گئے اور پھر جب امیر امان اللہ خان کے عہد میں مولوی نعمت اللہ صاحب احمدی کو شہید کر کے اس ظلم کا اعادہ کیا گیا تو ابھی اس ظلم پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ امان اللہ خان کے خاندان کی صف ہی لپیٹ دی گئی۔فاعتبروا یا اولی الابصار - الغرض نیک بندوں اور نیک جماعتوں کے خلاف ظلم کرنے والوں کے مظالم کا انتقام لینا خدا کی از لی سنت کا حصہ ہے جس کی مثالیں دنیا کے ہر زمانہ اور تاریخ کے ہر دور میں ملتی ہیں اور ملتی چلی جائیں گی کیونکہ جس طرح خدا ازلی ہے اسی طرح اس کی صفات بھی از لی ہیں اور اس کے نیک بندوں پر ظلم کر کے کوئی شخص بچ نہیں سکتا اور ضرور کسی نہ کسی رنگ میں کسی نہ کسی وقت پر پکڑا جاتا ہے۔مگر اس جگہ مجھے ایک خاص غرض کے ماتحت اسلام کی تاریخ میں سے دو ایسی دردناک مثالیں پیش کرنی ہیں جو مسلمانوں کی دو بڑی تباہیوں سے تعلق رکھتی ہیں۔جن میں سے ایک کا انتقام خدائے منتقم کا زبر دست ہاتھ لے چکا ہے اور دوسری کے متعلق ابھی انتظار ہے۔میری مراد تیرھویں صدی عیسویں میں بغداد کی تباہی اور پندرھویں صدی عیسوی میں سپین سے مسلمانوں کا اخراج ہے۔یہ دونوں تباہیاں اسلام کی تاریخ میں ایسی نمایاں اور ایسی بھیانک ہیں کہ ان کا حال پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور ہر غیرت مند مسلمان کا خون جوش مارتا اور دل جائز ولولہ انتقام سے بھر جاتا ہے۔بنی امیہ کی سلطنت کے زوال کے بعد بغداد کا شہر اسلامی حکومت کا صدر مقام بنا تھا اور خلفاء بنی عباس کے زمانہ میں اس شہر نے اتنی حیرت انگیز ترقی کی کہ آجکل کی مخصوص ایجادوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ اس وقت کی دنیا کا سب سے زیادہ شاندار، سب سے زیادہ آبا دا ور علوم وفنون کا سب سے بڑا مرکز تھا اور اس کا غلغلہ مشرق و مغرب کے دور دراز کونوں تک پہنچتا اور دوست و دشمن کے دلوں کو رعب اور ہیبت سے لرزہ بر اندام کرتا تھا اور گو آہستہ آہستہ عباسیہ سلطنت میں زوال آنا شروع ہو گیا مگر اس شہر کی آبادی تقریباً مسلسل بڑھتی گئی۔حتی کہ وہ بیس لاکھ نفوس تک پہنچ گئی جو اس زمانہ کے لحاظ سے حقیقۂ حیرت انگیز تھی۔اس وقت چین اور ماور النہر کے میدانوں سے تاتاری اور منگولی قبائل جو وحشت اور خونریزی کا مجسمہ تھے ایک کالی گھٹا کی صورت میں اٹھنا شروع ہوئے جس کے ہیبت ناک بازوؤں پر چنگیز خان کی بربریت سوار تھی اور اس کا لی بلانے دیکھتے ہی دیکھتے ساری فضاء کو گھیر لیا اور گوخود چنگیز خاں کو اپنی زندگی میں بغداد پر حملہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا مگر وہ اپنی اولاد کے لئے اتنا رستہ صاف کر چکا تھا کہ اس کے جلد بعد ہی اس کے لڑکے ہلاکو خاں نے آندھی اور طوفان کی طرح بڑھ کر بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور نہ صرف عباسیہ خاندان تہ تیغ ہوا بلکہ بغداد کی ہیں لاکھ مسلمان آبادی میں سے سولہ لاکھ مسلمان منگولی لاؤ لشکر کی وحشیانہ تلوار اور خون آشام تیر وستان کا شکار