مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1011 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1011

1+11 مضامین بشیر اس حکیمانہ آئت میں یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ بے شک بعض اوقات سود لوگوں کے لئے ظاہری قیام کا موجب بن جاتا ہے لیکن یہ قیام ایک شیطانی قیام ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں بالآخر قلب انسانی کے اعلیٰ قومی تباہ ہو کر رہ جاتے ہیں اور دکھوں اور فتنوں کا دروازہ کھل جاتا ہے ( یہ لفظ یتخبطه کا لفظی ترجمہ ہے ) اور پھر آگے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ سود سے قومی لحاظ سے لڑائیوں اور جنگوں کی آگ کا راستہ کھلتا ہے اور انفرادی لحاظ سے وہ اس لطیف روح کو کچل کر رکھ دیتا ہے جو صدقات کے ذریعہ خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں باہم ہمدردی اور تعاون پیدا کرنا چاہتا ہے۔اوپر کی دو اصولی آیتوں سے ہمیں ذیل کی دوا ہم باتوں کا سبق حاصل ہوتا ہے:۔ا۔ایک یہ کہ ہو سکتا ہے کہ ایک بات میں بعض فوائد کے پہلو ہوں لیکن اگر اس کے نقصان کے پہلو اس کے فوائد کے پہلو سے بھاری ہیں تو اس کے فوائد کے باجود مومنوں کو ایسی چیز سے پر ہیز کرنا چاہئے کیونکہ اسے اختیار کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ انسان چار آنے کے لالچ میں ایک روپیہ کھو بیٹھے۔۲۔دوسری بات ان آیات سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ سود اور جو ا ( شراب کا اس بحث سے تعلق نہیں) ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بعض فوائد کے باوجود ان کے نقصانات کا پہلو اتنا بھاری ہے کہ مومنوں کو ان سے بہر حال اجتناب کرنا چاہئے اور پھر ان آیات سے ان نقصانات کی نوعیت کی طرف اصولی اشارہ بھی کر دیا ہے مگر اس جگہ اس کی تشریح میں جانا ہمارے موجودہ مضمون کے دائرے سے تعلق نہیں رکھتا۔اس تمہید کے بعد اور دراصل اس تمہید میں ہی اصل جواب آجاتا ہے یہ جاننا چاہئے کہ چونکہ اس وقت زندگی کے بیمہ کی جو پالیسیاں ہمارے ملک میں رائج ہیں ان میں جہاں تک مجھے علم ہے لازماً سود اور جوئے کا عصر داخل ہو جاتا ہے اور اسلام نے ان دونوں چیزوں کو قطعی طور پر حرام کیا ہے۔اس لئے زندگی کا بیمہ بھی جس صورت میں کہ وہ آجکل رائج ہے اسلامی تعلیم کے ماتحت ناجائز سمجھا جائے گا۔ہمیں یقیناً اس سوال کے ساتھ ہمدردی ہے کہ خدا کے بتائے ہوئے ظاہری اسباب کے ماتحت ہر باپ یا ہر گارڈین کا یہ فرض ہے کہ اس کے لئے جہاں تک ممکن ہو اور جہاں تک اس کے حالات اجازت دیں اپنے پیچھے رہنے والے اہل وعیال کے گزارے کی تدبیر سوچے اور انہیں حتی الوسع بے سہارا چھوڑ کر نہ جائے لیکن ظاہر ہے کہ یہ انتظام ان بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے جو خدائے اسلام نے مسلمانوں کی بہتری اور بہبودی کیلئے مقررفرمائے ہیں اور اس میں کوئی عصر نا جائز اور حرام باتوں کا ہرگز شامل نہیں کرنا چاہئے۔یہ کہنا کہ مستقبل کا انتظام اپنی ذات میں ایک اچھی چیز ہے یقیناً درست