مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 90

مضامین بشیر ۹۰ کوئی وجہ نہیں کہ ہندوستان میں ایک محض عارضی سیاسی سمجھوتہ کی وجہ سے اکثریت والی پارٹی کے بنیادی حقوق کو قربان کیا جائے اور سیاسی سمجھوتہ بھی ایسا جو گذشتہ چند سال کے عرصہ میں کئی دفعہ رنگ بدل چکا ہے اور بہر حال ایسی صورت میں بھی حسب ضرورت حصول رائے عامہ کا طریق اختیار کیا جا سکتا ہے۔(۵) جن علاقوں میں مسلمان ہر جہت سے اقلیت میں ہیں، ان کے متعلق اگر پنجاب کی تقسیم اٹل ہو جائے اور ذمہ دار مسلمان لیڈروں کو اسے قبول کرنا پڑے تو وقتی طور پر مجبوری ہے۔لیکن ایسے علاقوں کے بھی وہ حصے جن میں ایسی نہروں کے ہیڈ اور ایسی بجلی کے پاور سٹیشن یا ایسے مرکزی تجارتی شہر وغیرہ واقع ہوں جن کا تعلق مخصوص طور پر ان مسلم اکثریت والے علاقوں کے ساتھ ہے جو فقرہ نمبر ۲، ۳ ۴۰ میں مذکور ہیں تو یہ مقامات بھی مسلم پنجاب کا حصہ بننے چاہئیں۔کیونکہ ظاہر ہے کہ ایسے مقامات کی حیثیت محض مقامی نہیں ہے بلکہ ان وسیع علاقوں کے ساتھ غیر منفک طور پر وابستہ ہے۔جنہیں وہ آبپاشی یا بجلی کی تقسیم یا تجارتی کاروبار کے تعلق کے لحاظ سے ایک یونٹ کی صورت میں فائدہ پہنچا رہے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان دو قسم کے علاقوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا سارے صوبہ کی اقتصادی زندگی کو بلا امتیاز قوم وملت تباہ کر دینے کے مترادف ہے۔اگر بالفرض تقسیم کا یہ اصول ہمیشہ کے لئے قابل تسلیم نہ ہو تو کم از کم ایک بڑے لمبے عرصہ کے لئے ضرور واجب العمل ہونا چاہئے تا اس عرصہ میں مغربی اور وسطی پنجاب اپنا علیحدہ انتظام کر سکے اور چونکہ تقسیم پنجاب کا سوال ہندوؤں اور سکھوں کا اٹھایا ہوا ہے، اس لئے بہر حال اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی لاز ما انہی پر پڑنی چاہئے۔اوپر کے بیان کردہ اصول کے کے ماتحت امرتسر کا شہر جو ویسے بھی فقرہ نمبر ۴ کے مطابق مسلم پنجاب کا حصہ بنتا ہے ، مغربی اور وسطی پنجاب کے ساتھ شامل رہنا چاہئے کیونکہ وہ اس علاقہ کا خاص تجارتی مرکز ہے جس کا تمام کا روبار ان علاقوں کے ساتھ وابستہ ہے جو فقرہ نمبر ۲ ،۴،۳ میں مذکور ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ امرتسر سکھوں کا مقدس شہر ہے۔تو ہم کہتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کو ان کی بعض مقدس یادگاروں سے محروم کرنے کی تدبیر نہیں کی جا رہی؟ اور امرتسر شہر میں تو جہاں سکھ صرف اٹھاون ہزار یعنی پندرہ فیصدی ہیں۔وہاں مسلمان ایک لاکھ تر اسی ہزار یعنی سینتالیس فی صدی سے بھی زیادہ ہیں اور دربار صاحب کا انتظام بہر حال سکھوں کے ہاتھ میں رہے گا اور اسلامی تعلیم کے ماتحت دربار صاحب ہمارے واسطے بھی ایک قابل احترام جگہ ہوگی۔یہ وہ چند موٹے موٹے اصول ہیں جن کے ماتحت پنجاب کی تقسیم اگر وہ خدانخواستہ بالکل ہی ناگزیر ہو جائے عمل میں آنی چاہئے اور گو میں دانستہ زیادہ تشریحات میں نہیں گیا لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تقسیم پنجاب کی صورت میں مسلمان ان اصولوں پر پختگی سے جم جائیں اور حکومت پر بھی ان اصولوں کی معقولیت پوری طرح واضح کر دیں تو